data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260204-08-18
کراچی(رپورٹ: واجد حسین انصاری) سانحہ گل پلازہ کو 18 روز گزر گئے ‘وزیراعظم نے کراچی کا دورہ تک نہیں کیا ۔ سانحہ گل پلازہ پر وفاقی حکومت کی لاتعلقی نے متعدد سوالات کو جنم دے دیا ۔ 80سے زاید قیمتی جانوں کے ضیاع اور اربوں روپے کے مالی نقصانات کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی کا دورہ تک نہیں کیا اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے متاثرین کی داد رسی کے لیے کوئی اعلانات سامنے آسکے۔دوسری طرف سندھ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں سانحہ گل پلازہ نے تاحال شہر کی فضا سوگوار کر رکھا ہے،اس المناک سانحے میں 80 سے زاید افراد جاںبحق ہوئے اور متعدد لاپتا ہیں ، کراچی کے اس تجارتی حب میں آتشزدگی کے باعث ہونے والے مالی نقصانات کا تخمینہ اربوں روپے لگایا جارہا ہے۔سانحے کے بعد سندھ حکومت نے متاثرین کی بحالی کے لیے مارکیٹ کی دوبارہ تعمیر اور جاں بحق افراد کے ورثا کو1 کروڑ روپے فی کس دینے کا اعلان کیا تھا جبکہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے باعث واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال سندھ حکومت کے اعلانات محض دعوؤں کی حد تک محدود ہیں اور ان پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے ۔ دوسری جانب اس سانحے پر وفاقی حکومت کے کردار پر کئی سوالات نے جنم دیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف جنہوںنے پہلے ہی کراچی کو مکمل طور نظرانداز کیا ہوا ہے،اس واقعے کے بعد بھی انہوںنے کراچی آنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور نہ ہی وفاق کی سطح پر متاثرین کی بحالی کے لیے کسی پیکج کا اعلان کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کا رویہ کراچی کے شہریوں کو اس سے متنفر کررہا ہے،شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا اس سانحے پر متاثرین کی داد رسی کے لیے کراچی نہ آنا افسوسناک ہے۔شہرقائد پہلے ہی مسائل کے انبار میں گھرا ہوا ہے لیکن وزیراعظم نے منصب سنبھالنے کے بعد تاحال کراچی کا کوئی تفصیلی دورہ نہیں کیا ہے ۔ شہری حلقوں کے مطابق کراچی کو اس وقت وفاق کی مدد کی انتہائی ضرورت ہے۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی صوبائی اور مقامی قیادت بھی اپنی لیڈر شپ کو قائل کرنے سے قاصر ہے کہ ملک کے معاشی حب کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

واجد حسین انصاری سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ وفاقی حکومت متاثرین کی نے کراچی کراچی کا نہیں کیا نہیں کی کے لیے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف