امریکا، ایران مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: دفترِ خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت ملنے کی تصدیق کر دی ہے، جسے خطے میں پاکستان کے فعال سفارتی کردار کا اہم اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے جو رواں ہفتے ترکیے کے شہر استنبول میں منعقد ہو رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات طویل عرصے سے جاری بیک ڈور سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہیں، جن میں پاکستان اور ترکیے نے اہم اور مؤثر کردار ادا کیا، دونوں ممالک نے پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جمود توڑنے میں مدد فراہم کی، جس کے بعد مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اگر اسحاق ڈار کی شرکت ہوتی ہے تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہوگا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی مکالمے کے فروغ کے لیے ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایک غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات جمعے کو ترکیے میں دوبارہ شروع ہوں گے۔ یہ مذاکرات مئی 2023 سے تعطل کا شکار تھے اور پانچ ادوار کے بعد کسی پیش رفت کے بغیر رک گئے تھے۔ اب استنبول میں ہونے والی بات چیت کو اس تعطل کو ختم کرنے کی ایک نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
علاقائی عہدیداروں کے مطابق استنبول مذاکرات میں سعودی عرب، قطر، عمان، پاکستان، مصر اور متحدہ عرب امارات کو بھی مدعو کیا گیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا اور ایران اس حساس معاملے میں علاقائی ممالک کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔
ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نہ تو استنبول مذاکرات کے حوالے سے حد سے زیادہ پُرامید ہے اور نہ ہی مکمل طور پر مایوس، اس بات چیت سے ہی واضح ہوگا کہ امریکا واقعی سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے یا نہیں۔
ایرانی ذرائع نے واضح کیا کہ ایران کی دفاعی تیاریاں اپنی بلند ترین سطح پر ہیں اور ملک ہر طرح کی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا اور ایران مذاکرات میں میں پاکستان کے درمیان کے مطابق
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔