تعطل کا شکار امریکا، ایران جوہری مذاکرات جمعےکو ترکیے میں دوبارہ شروع ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی اور ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مئی 2023 سے تعطل کا شکار امریکا اور ایران کے جوہری مذاکرات جمعے کو ترکیے میں دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔
امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات استنبول میں ہو گی۔ مذاکرات میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر اور دیگر ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے علاوہ سہ فریقی اور دیگر مشاورتی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سفارتی عمل جاری ہے اور ایران یورینئم کی افزودگی کے معاملے پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے بدلے ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکی فوجی اثاثے اس کے قریبی علاقوں سے دور منتقل کیے جائیں۔ حکام کے مطابق اب فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر منحصر ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے بھی دو روز قبل ایران کے ساتھ مزید بات چیت کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی میں بھی مذاکرات ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی یہ عمل جاری رہے گا۔
ادھر ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ جنگی ماحول کے برخلاف امریکا کے ساتھ بات چیت کے ایک فریم ورک پر کام جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور ایران
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔