ایرانی صدر نے امریکا کیساتھ جوہری مذاکرات کرنے کا حکم دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-01-6
تہران ( مانیٹر نگ ڈ یسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو ڈیڈ لائن دینے اور بصورت دیگر بڑے فوجی حملوں کی دھمکیوں کے بعد اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔عالمی خبر ایجنسی کے مطابق تازہ ترین پیشرفت میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا حکم جاری کردیا۔ایرانی صدر پزیشکیان نے ہدایت دی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری فائل پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔یہ بات ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز نے ایک رپورٹ میں بتائی جسے سرکاری اخبار ایران اور اصلاح پسند روزنامہ نے بھی شائع کیا۔تاہم اب تک مذاکرات کی تاریخ یا مقام کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے طریقہ کار اور فریم ورک تیار کر رہا ہے جسے آنے والے دنوں میں حتمی شکل دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی نقاط پر کام ہو رہا ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ ڈپلومیسی کے عمل کے اگلے مراحل جلد مکمل ہوجائیں گے تاہم انہوں نے مذاکرات کے مواد کی تفصیلات نہیں بتائیں۔پیر کو ہی ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بھی عالمی خبررساں ادارے کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے ہی شروع ہوجائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایران اور امریکا کے مذاکرات کاروں کی ملاقات کے لیے قطر، ترکیے اور مصر انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں ثالثی کا کردار قطر، ترکیے اور مصر ادا کریں گے۔خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائی کو روکا جا سکے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ جوہری پروگرام پر ڈیل نہ ہونے کی صورت میں ایران کے پاس وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا کے ایران اور
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔