پاکستان کا امریکا ‘ایران مذاکرات میں شرکت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-01-16
اسلام آباد /واشنگٹن /لندن /دوحا (مانیٹرنگ ڈیسک) دفتر خارجہ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت ملنے کی تصدیق کردی۔ ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکا ایران مذاکرات رواں ہفتے استنبول میں منعقد ہو رہے ہیں‘ امریکا، ایران مذاکرات بیک ڈور کوششوں سے ممکن ہوئے‘ مذاکرات کے لیے پاکستان اور ترکیے بیک ڈور کوششیں کر رہے تھے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحق ڈار مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کرسکتے ہیں۔دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام کا بھی کہنا ہے کہ امریکا اور ایران جوہری مذاکرات جمعے کو ترکیے میں دوبارہ شروع ہوں گے‘ امریکا ایران جوہری مذکرات 5 ادوار کے بعد مئی 2023ء سے تعطل کا شکار تھے۔علاقائی عہدیدار کے مطابق مذاکرات میں سعودی عرب، قطر، عمان، پاکستان، مصر اور متحدہ عرب امارات کو استنبول مدعو کیا گیا ہے۔ایرانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ استنبول مذاکرات سے متعلق ایران نہ پُرامید ہے نہ ہی مایوس ہے، استنبول بات چیت سے معلوم ہوگا کہ امریکا سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے یا نہیں۔ایرانی سفارتی ذرائع نے کہا کہ ایران کی دفاعی تیاریاں زیادہ سے زیادہ ہیں، ایران ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہے، ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔ امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جاری تنازع سفارت کاری کے ذریعے ختم کرنے کی کوششیں کریں گے تاکہ خطہ نئی جنگ سے بچ جائے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان استنبول مذاکرات میں ایک ذمہ دار اور تعمیری شراکت دار کے طور پر شرکت کرے گا اور فریقین کو کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی کے اقدامات اپنانے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ برطانیہ نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات پر ایرانی شخصیات اور ایک ادارے کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق برطانوی حکومت نے 10 ایرانی شخصیات اور ایک ایرانی ادارے کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر عاید کی گئی ہیں‘ نامزد افراد اور ادارے کے برطانیہ میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے جبکہ ان افراد پر برطانیہ کا سفر کرنے پر بھی پابندی عائد ہو گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کا اسٹرٹیجک ذخیرہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں‘ ایران کے ساتھ اگر کوئی معاملہ طے پا گیا تو یہ بہتر ہوگا تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو بہت برے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ امریکی صدر نے اسٹیو وٹکوف کی جمعے کو ایرانی وزیرخارجہ سے مذاکرات کی بھی تصدیق کردی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ سٹیووٹکوف جمعے کو ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات کریں گے۔ قطر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے تمام علاقائی طاقتیں متحرک ہو گئی ہیں۔ ترجمان قطری وزارت خارجہ ماجدالانصاری نے کہا کہ ایران امریکا کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر رابطے جاری ہیں جب کہ سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور عمان سمیت تمام پڑوسی ممالک کوشش کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران مذاکرات سفارتی ذرائع مذاکرات میں کہنا ہے کہ نے کہا کہ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔