آبنائے ہرمز میں کشیدگی:ایران نے امریکی پرچم بردار جہاز کو روک لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک نیا واقعہ پیش آیا ہے جہاں پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں نے امریکی پرچم والے ایک جہاز کو روک لیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز بغیر اجازت ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوا تھا، جس پر ایرانی کشتیوں نے وارننگ دی، بعد ازاں جہاز علاقہ چھوڑ کر نکل گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روکا اور عملے کو ہراساں کیا۔ سینٹ کام کے ترجمان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی کشتیاں اور ایرانی ڈرون جہاز کے قریب پہنچے اور اسے قبضے میں لینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ صورتحال کے دوران امریکی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے ایرانی ’شاہد-139‘ ڈرون کو مار گرایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔