آبنائے ہرمز میں کشیدگی:ایران نے امریکی پرچم بردار جہاز کو روک لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا ایک نیا واقعہ پیش آیا ہے جہاں پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں نے امریکی پرچم والے ایک جہاز کو روک لیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز بغیر اجازت ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوا تھا، جس پر ایرانی کشتیوں نے وارننگ دی، بعد ازاں جہاز علاقہ چھوڑ کر نکل گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی کشتیوں نے امریکی پرچم والے جہاز کو روکا اور عملے کو ہراساں کیا۔ سینٹ کام کے ترجمان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی کشتیاں اور ایرانی ڈرون جہاز کے قریب پہنچے اور اسے قبضے میں لینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ صورتحال کے دوران امریکی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے ایرانی ’شاہد-139‘ ڈرون کو مار گرایا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔