Islam Times:
2026-06-02@22:30:58 GMT

سمندری ناکہ بندی، ایران کے خلاف شکست خوردہ ہتھکنڈہ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

سمندری ناکہ بندی، ایران کے خلاف شکست خوردہ ہتھکنڈہ

اسلام ٹائمز: اگرچہ وینزویلا کے معاملے میں بھی تیل کی برآمدات میں کمی کچھ حد تک عالمی منڈی پر اثراندا ہوئی تھی لیکن اس کے اثرات قابل برداشت اور کنٹرول تھے۔ توانائی کی عالمی منڈی نے توانائی کے متبادل ذرائع بروئے کار لا کر اور توانائی کی فراہمی برقرار رکھ کے اس جھٹکے پر کافی حد تک قابو پا لیا تھا۔ لیکن ایران کا معاملہ بالکل مختلف نوعیت کا ہے اور آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کا باعث بننے والا کوئی بھی اقدام عالمی سطح پر سلسلہ وار رد عمل پیدا کر سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے لے کر سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہونے اور افراط زر کے دباؤ میں شدت تک۔ ان بھاری نقصانات کا سامنا نہ صرف ایران بلکہ ایران پر دباو ڈالنے کے حامیوں اور حتی غیر جانبدار ممالک بھی کریں گے۔ لہذا ایران کے خلاف ایسا ممکنہ اقدام کسی کے حق میں نہیں ہو گا۔ تحریر: سعید ترکاش وند
 
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جیسے جیسے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو ساتھ ہی مغربی ایشیا خطے میں بھی سیکورٹی تناو بڑھتا چلا گیا ہے اور مختلف سیاسی اور میڈیا حلقوں میں "ایران کی سمندری ناکہ بندی" کا منظر نامہ پیش کیا جانے لگا ہے۔ اس منظر نامے کو زیادہ سے زیادہ دباؤ پر مبنی حکمت عملی کا ایک شاخسانہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس دباؤ کا مقصد باقاعدہ طور پر اعلان جنگ کیے بغیر ایران کی اقتصادی طاقت کو محدود کرنا اور خاص طور پر توانائی کی برآمدات کے شعبے میں اسے شدید محدودیتوں اور مشکلات کا شکار کرنا ہے۔ اس تناظر میں اکثر ایران کا موازنہ وینزویلا کے تجربے سے کیا جاتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو اقتصادی پابندیوں، جہاز رانی محدود ہو جانے اور بین الاقوامی سیاسی دباؤ کے نتیجے میں تیل برآمد کرنے کی اپنی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ کھو چکا ہے۔
 
تاہم، اس طرح کا موازنہ کرنا شاید پہلی نظر میں آسان اور قابل فہم محسوس ہو لیکن درست تجزیہ کرنے کے لیے اس مسئلے کو بہت زیادہ باریک بینی اور گہرائی سے دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ بنیادی سوال یہ نہیں ہے کہ آیا تکنیکی لحاظ سے اور مفروضات کی دنیا میں ایران کی سمندری ناکہ بندی اور اس کے بحری جہازوں کی آمدورفت محدود کر کے اس پر دباو ڈالنا ممکن ہے یا نہیں؟ بلکہ اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا بین الاقوامی نظام میں ایران کے خاص کردار اور مقام کے پیش نظر، ایسا ماڈل بنیادی طور پر دہرائے جانے، کنٹرول کیے جانے اور اس کے ممکنہ نتائج کا اندازہ لگائے جانے کی قابلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے کئی پہلووں کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔
 
یہ جائزہ بیک وقت قانونی، جیو پولیٹیکل، جیو اکنامکل اور سیکورٹی پہلوؤں پر مشتمل ہونا چاہیے تاکہ اس کا قابل قبول نتیجہ حاصل ہو سکے۔ یہ وہ پہلو ہیں جو ایران کے معاملے میں آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور بہت ہی پیچیدہ انداز میں کام کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ سیاسی اور میڈیا حلقوں میں رائج اصطلاحات میں جس چیز کو سمندری ناکہ بندی کہا جاتا ہے وہ ضروری نہیں کہ ویسا ہی ہو جس کا تصور بین الاقوامی قانون میں پایا جاتا ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے سمندری ناکہ بندی اپنی ذات میں ایک فوجی اقدام ہے جو عام طور پر جنگ یا مسلح تصادم جیسے حالات میں نسبتاً قانونی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس اقدام کے لیے سرکاری اعلان، بحری جہازوں کی آمدورفت روکنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال اور دیگر حکومتوں سے متعلق اس کے قانونی اثرات قبول کرنے کی ضرورت ہے۔
 
اس کے برعکس، وینزویلا کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک واضح فوجی ناکہ بندی سے زیادہ ایک قسم کی بالواسطہ اقتصادی ناکہ بندی تھی جو جہازرانی کی کمپنیوں پر پابندیاں، انشورنس کنندگان کو دھمکیاں، بینکاری نظام میں رکاوٹ ڈالنے، اور دیگر کھلاڑیوں پر دباؤ کے ذریعے جاری تھی۔ اس قسم کے ماڈل میں ایک بھی گولی چلے بغیر ناکہ بندی کا نشانہ بننے والے ملک سے تعلقات قائم رکھنے کی لاگت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بہت سے معاشی کھلاڑی رضاکارانہ طور پر خود کو اس سے دور کر لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ناکہ بندی کے معنی و مفہوم میں یہی فرق، ایران اور وینزویلا کے مسئلے میں فرق قائل ہونے کی جانب پہلا قدم ثابت ہوتا ہے۔ جہاں وینزویلا جیوپولیٹیکل لحاظ سے ایک انتہائی کم اہمیت کے حامل خطے میں واقع ہے، وہاں ایران دنیا کے حساس ترین خطوں میں سے ایک کے مرکز میں واقع ہے۔
 
ایران کا جنوبی ساحل، خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے ساتھ واقع ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے شمالی ساحل پر بھی اس کا مکمل احاطہ ہے۔ یہ آبنائے نہ صرف ایران بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے انتہائی درجہ اہمیت کی حامل ہے۔ دنیا کی تیل اور گیس کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اس راستے کے ذریعے انجام پاتا ہے اور اس علاقے کی سلامتی کا براہ راست تعلق ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں میں توانائی استعمال کرنے والے بڑے ممالک کے اقتصادی استحکام سے ہے۔ ایسی صورت حال میں ایران سے مربوط جہاز رانی میں کسی قسم کا شدید خلل محض ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک ہتھکنڈہ نہیں ہو گا بلکہ یہ ایک ایسے کثیر الجہتی بحران میں تبدیل ہو جائے گا جو متعدد بین الاقوامی اداکاروں کے مفادات کو متاثر کرے گا۔ یہ جغرافیائی سیاسی حقیقت، ایران کی بحری ناکہ بندی ممکن ہونے یا نہ ہونے پر بہت زیادہ موثر ہے۔
 
اگرچہ وینزویلا کے معاملے میں بھی تیل کی برآمدات میں کمی کچھ حد تک عالمی منڈی پر اثراندا ہوئی تھی لیکن اس کے اثرات قابل برداشت اور کنٹرول تھے۔ توانائی کی عالمی منڈی نے توانائی کے متبادل ذرائع بروئے کار لا کر اور توانائی کی فراہمی برقرار رکھ کے اس جھٹکے پر کافی حد تک قابو پا لیا تھا۔ لیکن ایران کا معاملہ بالکل مختلف نوعیت کا ہے اور آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کا باعث بننے والا کوئی بھی اقدام عالمی سطح پر سلسلہ وار رد عمل پیدا کر سکتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے لے کر سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہونے اور افراط زر کے دباؤ میں شدت تک۔ ان بھاری نقصانات کا سامنا نہ صرف ایران بلکہ ایران پر دباو ڈالنے کے حامیوں اور حتی غیر جانبدار ممالک بھی کریں گے۔ لہذا ایران کے خلاف ایسا ممکنہ اقدام کسی کے حق میں نہیں ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سمندری ناکہ بندی بین الاقوامی وینزویلا کے توانائی کی عالمی منڈی ایران کی ایران کے ایران کا کے لیے کا ایک ہے اور

پڑھیں:

کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں یکم جون سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز ہوگیا اور پہلے روز 11 گیٹیگریز کی سواریوں کے فیس لیس چالان ہوئے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لین کی خلاف ورزی پر پہلے دن مجموعی طور پر 96 چالان ہوئے۔

بڑی بس 2، کوسٹر 2، ڈبل کیبن 1 اور گاڑی کے 9 چالان کیے گئے جبکہ منی بس 6، منی ٹرک 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان ہوئے۔

اسی طرح موٹر سائیکل پر 43، ٹرک 3، وین 4 اور واٹر ٹینکر پر 2 چالان ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تمام چالان اپنی لین سے ہٹ کر دوسری لین میں چلانے پر ہوئے، فرسٹ لین میں آہستہ چلانے پر بھی فیس لیس چالان کیا گیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار