پاکستان اور کینیڈا کا تجارت، کان کنی اور زرعی شعبہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
ایس آئی ایف سی کی فعال سفارتی و معاشی حکمتِ عملی سے پاکستان عالمی اسٹریٹجک شراکت داریوں کے نئے دور میں داخل ہوگیا۔
پاکستان عالمی سرمایہ کاری اور شراکت داری کے ذریعے تجارت، زراعت اور توانائی کے شعبوں کو مستحکم کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں تجارت، سرمایہ کاری، معدنیات، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی معدنیاتی کانفرنس پراسپییکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا 2026 میں شرکت پر بھی بات چیت ہوئی۔ یہ کانفرنس پاکستان کی معدنیات کو عالمی سرمایہ کاروں سے متعارف کروائے گی اور پاکستانی کان کنی کمپنیوں کے کینیڈین ماہرین سے رابطہ کا باعث بنے گی۔
پاکستان اور کینیڈا نے ڈیری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں بھی تعاون، جدید فارمینگ، جینیٹکس اور وباوں کے کنٹرول کے ذریعے پیداوار اور معیار بڑھانے پر اتفاق کیا۔ پاکستان میں قابل تجدید توانائی میں کینیڈین سرمایہ کاری، وقت پر منظوری اور باقاعدہ قوانین کی منظوری کو اہم قرار دیا گیا۔
دوطرفہ اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے، ادارہ جاتی روابط بڑھانے اور پرائیویٹ سیکٹرکی شمولیت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
پاکستان کی اقتصادی ترقی میں کامیاب اقدامات اور سرمایہ کاری کے مواقع قومی معیشت کے لیے روشن مستقبل کی نوید ہیں۔ ایس آئی ایف سی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔