واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے بعد اب مذاکرات کا عمل جاری ہے اور امید ہے کہ بات چیت کامیاب ثابت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا بھر میں تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ڈی سی میں فوج کی تعیناتی کے بعد جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے اور قتل کے واقعات میں 95 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی شہر اب پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہو چکے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا سے جرائم پیشہ تارکینِ وطن کو واپس بھیجا جا رہا ہے جس سے داخلی سلامتی مزید بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا میں ادویات کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر آ چکی ہیں۔

سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ری پبلکن پارٹی کو آئندہ مڈٹرم الیکشن جیتنا چاہیے۔

مزید پڑھیں

امریکا کا بحیرہ عرب میں ایئرکرافٹ کیریئر کی طرف بڑھنے والے ایرانی ڈرون مارگرانے کا دعویٰ

ایران اور امریکا کے درمیان مذکرات میں شرکت کیلئے پاکستان کو بھی دعوت

ایران میں فسادات یا بغاوت؟ خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزام لگا دیا

خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جبکہ ماضی میں ایران کے خلاف آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا بگرام ایئر بیس حاصل کرے گا اور اسے کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ کولمبیا کے صدر کے ساتھ معاملات بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔

یوکرین اور روس کی جنگ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس جنگ کو ختم کروانا چاہتے ہیں، تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے سرد موسم میں حملے افسوسناک ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کو جنگ کے بجائے تجارت کا مشورہ دیا گیا تھا اور اب دونوں ممالک خوش ہیں۔

امریکی صدر نے اعلان کیا کہ انہوں نے فنڈنگ بل پر دستخط کر دیے ہیں جبکہ قطر کے ساتھ 42 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ بھی طے پا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت کی تلاش امریکی صدر کرتے ہوئے کہ امریکا نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟