مودی نے امریکا کے ہاتھوں بھارت کو بیچ دیا،راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھارت اور امریکا کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں اور انہوں نے ملک کو فروخت کر دیا ہے۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں سے رکا ہوا بھارت،امریکا تجارتی معاہدہ اچانک طے پایا ہے، جس کے پیچھے شدید بین الاقوامی دبائوکارفرما ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ مودی جی گھبراہٹ میں ہیں،بھارت،امریکا تجارتی معاہدہ جو کئی مہینوں سے رکا ہوا تھا، اسے گزشتہ رات اچانک حتمی شکل دے دی گئی،ان پر شدید دبائو ہے، ان کی شبیہ متاثر ہو سکتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں، عوام کو اس پر غور کرنا چاہیے، پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف کو صدر جمہوریہ کے خطاب پر بولنے نہیں دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی جی نے اس معاہدے میں عوام کی محنت کو بیچ دیا ہے کیونکہ وہ دبائو میں ہیں۔ انہوں نے ملک کو فروخت کر دیا ہے۔ مودی جی اس لیے خوفزدہ ہیں کہ جن لوگوں نے ان کی شبیہ بنائی تھی، اب وہی اسے توڑ رہے ہیں۔
جب صحافیوں نے پوچھا کہ وہ وزیراعظم کو ”سمجھوتہ شدہ“ کیوں مانتے ہیں تو راہل گاندھی نے امریکا میں گوتم اڈانی کے خلاف مبینہ مقدمے اور ایپسٹین فائلز کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں اڈانی جی پر جو کیس ہے، دراصل وہ مودی جی پر کیس ہے۔ اس کے علاوہ ایپسٹین فائلز میں ایسی کئی باتیں ہیں جو ابھی تک امریکانے عام نہیں کی ہیں۔
ان دونوں معاملات کی وجہ سے شدید دبائوہے۔ یہی دو بڑے پریشر پوائنٹس ہیں۔ ملک کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔