Jasarat News:
2026-07-23@23:33:16 GMT

مودی نے امریکا کے ہاتھوں بھارت کو بیچ دیا،راہل گاندھی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

مودی نے امریکا کے ہاتھوں بھارت کو بیچ دیا،راہل گاندھی

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھارت اور امریکا کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں اور انہوں نے ملک کو فروخت کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں سے رکا ہوا بھارت،امریکا تجارتی معاہدہ اچانک طے پایا ہے، جس کے پیچھے شدید بین الاقوامی دبائوکارفرما ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ مودی جی گھبراہٹ میں ہیں،بھارت،امریکا تجارتی معاہدہ جو کئی مہینوں سے رکا ہوا تھا، اسے گزشتہ رات اچانک حتمی شکل دے دی گئی،ان پر شدید دبائو ہے، ان کی شبیہ متاثر ہو سکتی ہے۔

 سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم سمجھوتہ کر چکے ہیں، عوام کو اس پر غور کرنا چاہیے، پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف کو صدر جمہوریہ کے خطاب پر بولنے نہیں دیا گیا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ مودی جی نے اس معاہدے میں عوام کی محنت کو بیچ دیا ہے کیونکہ وہ دبائو میں ہیں۔ انہوں نے ملک کو فروخت کر دیا ہے۔ مودی جی اس لیے خوفزدہ ہیں کہ جن لوگوں نے ان کی شبیہ بنائی تھی، اب وہی اسے توڑ رہے ہیں۔

جب صحافیوں نے پوچھا کہ وہ وزیراعظم کو ”سمجھوتہ شدہ“ کیوں مانتے ہیں تو راہل گاندھی نے امریکا میں گوتم اڈانی کے خلاف مبینہ مقدمے اور ایپسٹین فائلز کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں اڈانی جی پر جو کیس ہے، دراصل وہ مودی جی پر کیس ہے۔ اس کے علاوہ ایپسٹین فائلز میں ایسی کئی باتیں ہیں جو ابھی تک امریکانے عام نہیں کی ہیں۔

ان دونوں معاملات کی وجہ سے شدید دبائوہے۔ یہی دو بڑے پریشر پوائنٹس ہیں۔ ملک کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا