data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(رپورٹ:سید وزیر علی قادری) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں سیزن کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مختلف فرنچائزز نے اپنے کھلاڑیوں کی ریٹینشنز کا اعلان شروع کر دیا ہے۔ اب تک چھ فرنچائزز نے اپنے پرانے اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملتان سلطانز نے اپنے سابقہ اسکواڈ سے کسی بھی کھلاڑی کو ریٹین نہیں کیا جبکہ سیالکوٹ سٹیلیئنز اور حیدرآباد نے 7 فروری تک اپنی ریٹینشنز کا اعلان کرنے کا شیڈول رکھا ہے۔ پی ایس ایل کی تاریخ کا پہلا پلیئرز آکشن 11 فروری کو منعقد ہوگا، جس میں فرنچائزز نئے کھلاڑیوں کے لیے بولیاں لگائیں گی۔

لاہور قلندرز نے اپنے کپتان شاہین شاہ آفریدی کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔ اس کے علاوہ عبداللہ شفیق ڈائمنڈ، سکندر رضا گولڈ اور محمد نعیم سلور کیٹیگری میں لاہور قلندرز کے ساتھ برقرار ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسپنر ابرار احمد کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔ کوئٹہ نے حسن نواز کو گولڈ، عثمان طارق کو ڈائمنڈ اور شامل حسین کو ایمرجنگ کیٹیگری میں ریٹین کر لیا ہے۔

ایچ بی ایل پی ایس ایل کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بابر اعظم کو پشاور زلمی کے ساتھ برقرار رکھا گیا ہے۔ زلمی نے بابر اعظم کو پلاٹینم اور سفیان مقیم کو ڈائمنڈ کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے جبکہ کراچی کنگز نے پی ایس ایل کے سب سے کامیاب بولر حسن علی کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے۔ مزید برآں عباس آفریدی ڈائمنڈ، خوشدل شاہ گولڈ اور سعد بیگ ایمرجنگ کیٹیگری میں کراچی کنگز کے ساتھ برقرار ہیں۔

پی ایس ایل 11 کے آغاز سے قبل یہ ریٹینشنز فرنچائزز کے اسکواڈ کی مضبوطی اور سیزن کے لیے حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل نے اپنے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان