مرد اے آئی چیٹ بوٹ گرل فرینڈز سے جذباتی وابستگی نہ رکھیں: پوپ نے خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے خبردار کیا ہے کہ مرد اے آئی چیٹ بوٹ گرل فرینڈ سے جذباتی وابستگی قائم نہ کریں ورنہ تکلیف دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق پوپ کا کہنا تھا کہ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں اس بات کا تعین کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ آیا ہم انسانوں کے ساتھ بات کر رہے ہیں یا بوٹس کے ساتھ۔
پوپ نے سماجی مواصلات کے عالمی دن پر کیتھولکس کے لیے ایک اپیل جاری کی جس میں انسانی آوازوں اور چہروں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
پوپ کے مطابق اگر لوگ اے آئی کی جانب مائل ہوگئے اور دیگر انسانوں کے ساتھ نہیں رہے تو کوئی رشتہ یا دوستی نہیں رہے گی۔
پوپ نے معتقدین سے کہا کہ چہرے اور آوازیں مقدس ہوتی ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے انسانی تہذیب کے بنیادی ستونوں کو خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی چیٹ بوٹ ممکنہ طور پر محظوظ کرتے ہوں لیکن یہ گمراہ کن ہوتے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اے ا ئی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔