مرکزی بجٹ 2026ء پر جماعت اسلامی ہند نے تشویش کا اظہار کیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
سید سعادت اللہ حسینی نے بجٹ کے حوالے سے گزشتہ برسوں میں اہم فلاحی اسکیموں میں فنڈز کے استعمال میں آ رہی مسلسل کمی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اسلام ٹائمز۔ میڈیا کے لئے جاری بیان میں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند نے بجٹ سے پہلے وزارت خزانہ کو تفصیلی تجاویز پیش کی تھیں۔ ان تجاویز میں روزگار پر مبنی ترقی، عوامی ضروریات کی تکمیل، دولت کی منصفانہ تقسیم اور اقلیتی طبقات سمیت حاشیے پر موجود لوگوں کی ترقی کے لئے مخصوص اقدامات پر زور دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ سرمایہ داری کو بڑھاوا دیتا ہے اور بے روزگاری، آمدنی کے عدم تحفظ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لئے ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کرتا۔ سید سعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ بجٹ میں 12.
بجٹ میں صحت (1.03 لاکھ کروڑ روپے) اور تعلیم (1.39 لاکھ کروڑ روپے) جیسے سماجی شعبوں کے لیے مختص فنڈ مرکزی حکومت کے قومی اہداف سے بہت کم ہیں۔ سعادت اللہ حسینی نے بجٹ کے حوالے سے گزشتہ برسوں میں اہم فلاحی اسکیموں میں فنڈز کے استعمال میں آ رہی مسلسل کمی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی، رہائش اور روزگار سے متعلق کئی اہم منصوبوں میں اعلان کردہ بجٹ اور اصل خرچ کے درمیان نمایاں فرق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سماجی اخراجات میں کٹوتی یا تاخیر سے جاری کیا گیا مالیاتی فنڈ آخرکار غریبوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور انسانی ترقی سے محروم کر دیتا ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے خبردار کیا کہ حد سے زیادہ قرض پر انحصار نہ صرف مالی بحران کو جنم دیتا ہے بلکہ سنگین اخلاقی سوالات بھی کھڑے کرتا ہے۔ سودی قرض پر چلنے والا معاشی نظام فطری طور پر غیر منصفانہ ہے، کیونکہ اس میں عوامی وسائل کو سماجی بہبود کے بجائے قرض دہندگان کے مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی سودی ادائیگیاں صحت، تعلیم اور غربت کے خاتمے پر ہونے والے اخراجات کو لگاتار کم کر رہی ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر نے ٹیکس کے موجودہ نظام پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں کارپوریٹ ٹیکس میں نمایاں رعایتیں دی گئی ہیں، جبکہ آمدنی کا بڑا حصہ اب بھی عام لوگوں پر ٹیکس لگا کر حاصل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی جیسے ٹیکس عام لوگوں پر بوجھ ڈال رہے ہیں جس سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سید سعادت اللہ حسینی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی مالی ترجیحات پر نظر ثانی کرے اور عوامی مفاد کا حامل ایک جامع اور اخلاقی معاشی فریم ورک اپنائے۔حقیقی ترقی کا پیمانہ محض شرحِ نمو یا بنیادی ڈھانچے کے اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کا اثر سماج کے کمزور ترین طبقات پر کیا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند نے محنت کشوں کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری، سماجی تحفظ، آسان ٹیکس سسٹم اور قرض پر مبنی ترقی پر انحصار کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تمام شہریوں کے لئے انصاف، وقار اور مشترکہ خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید سعادت اللہ حسینی نے جماعت اسلامی ہند انہوں نے کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند