اسرائیل کے فضائی حملے میں حماس کے اعلیٰ کمانڈر بلال شہید
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی غزہ کے علاقے میں حماس کی ایلیٹ نُخبا فورس کے اعلیٰ کمانڈر کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ترجمان فوج نے بتایا کہ حماس نے شمالی غزہ میں رات گئے اسرائیلی اہلکاروں پر حملے کیا جس میں ایک افسر شدید زخمی ہوگیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جس کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی غزہ کے ایک علاقے میں فضائی کارروائی میں حماس کے کمانڈر بلال ابو عاصی کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ بلال ابو عاصی، حماس کی نُخبا فورس کے پلاٹون کمانڈر تھے اور 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے دو علاقوں پر یلغار کی قیادت کی تھی۔
صیہونی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا کہ بلال ابو عاصی کی قیادت میں اسرائیلی علاقوں میں یلغار میں درجنوں شہری ہلاک اور اغوا ہوئے تھے۔
فوج کا کہنا ہے کہ ابو عاصی پر جنگ کے دوران غزہ میں یرغمالیوں کی لاشیں رکھنے اور اسرائیلی فوجیوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا بھی شبہ تھا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس حملے سے پہلے اور دورانِ حملہ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے سخت نگرانی اور انتہائی درست ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
تاہم اس کے باوجود حملے میں معصوم شہریوں کا جانی نقصان بھی ہوا، جن میں ہلالِ احمر کا ایک طبی اہلکار بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ غیر متعلقہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر فوج کو افسوس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔