بھارت نے فلسطین کے حق میں اسٹیکرز لگانے والے برطانوی سیاحوں کو ملک بدر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ایک بار پھر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی نام نہاد دعویدار بھارت کی اسرائیل نواز مودی سرکار کا چہرہ بے نقاب ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 21 جنوری کو بھارت پہنچنے والا برطانوی سیاح جوڑا جن جن تاریخی اور سیاحتی مقام پر گیا، فلسطین پر اسرائیلی مظالم اجاگر کرتا گیا۔
جذبہ انسانیت سے لبریز برطانوی سیحون لیوس گیبریل ڈی اور انیوشی ایما کرسٹین نے ریاست راجستھان کے تاریخی شہر پُشکر میں اسرائیل مخالف اسٹیکرز لگائے۔
ان اسٹیکرز پر ’’فلسطین کو آزاد کرو‘‘ اور ’’بائیکاٹ اسرائیل‘‘ تحریر تھا۔ کچھ پر فلسطینی پرچم بھی بنے تھے۔ بعض اسٹیکرز میں اسرائیلی پرچم اور نازی نشان بھی بنے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ بھارتی ریاست راجستھان کا معروف سیاحتی علاقہ پُشکر اسرائیلی شہریوں کا پنسدیدہ مقام ہے جہاں سالانہ 10 ہزار اسرائیلی سیاح آتے ہیں۔
???? Can the UK ???????? Government please pick up their unsupervised halfwits from India ????????.
Two British Tourists receive "Leave India Notices" after posting Free Palestinian stickers in Rajasthan.
Lewis D Gabriel D & Anushi Emma Christine are clearly not the full quid.
Another example… pic.twitter.com/WRV9POsb25 — The Consultant (@TheConsultant18) February 4, 2026
ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھی تقریباً 2 ہزار اسرائیلی شہری اس علاقے میں مقیم بتائے جاتے ہیں۔
انھی میں سے کسی اسرائیلی نے پولیس میں برطانوی سیاحوں کے فلسطین کے حق اور صیہونی ریاست کی مخالفت میں اسٹکرز چسپاں کرنے کے بارے میں شکایت درج کرائی تھی۔
جس پر راجستھان پولیس نے کہا ہے کہ سیحون لیوس گیبریل ڈی اور انیوشی ایما نے سیاحتی ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی سرگرمی میں حصہ لیا۔
اگرچہ ان کے خلاف کوئی باقاعدہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا تاہم پولیس نے تنبیہ کی کہ سیاحتی ویزا پر سیاسی اظہار یا سرگرمی کی اجازت نہیں ہوتی۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق برطانوی سیاحوں نے کہا کہ اگر ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو معذرت خواہ ہیں۔
اس کے باوجود ریاستی کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (CID) نے نہ صرف ان کے ویزے منسوخ کردیئے بلکہ “لیو انڈیا” کا نوٹس جاری کیا اور فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی