پاکستان وسط ایشیا کو تجارت کیلئے اپنی بندرگاہوں کا راستہ فراہم کرسکتا ہے،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان وسط ایشیا کو تجارت کیلئے اپنی بندرگاہوں کا راستہ فراہم کرسکتا ہے،وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 4 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان وسط ایشیا کو تجارت کیلئے اپنی بندرگاہوں کا راستہ فراہم کرسکتا ہے، قازقستان اپنی منصوعات گوادر اور کراچی پورٹ سے برآمد کر سکتا ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان قازقستان مشترکہ بزنس فورم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان موجودہ پچیس کروڑ ڈالر کے تجارتی حجم کو صلاحیت سے کم قرار دے دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئے اہداف کے حصول کیلئے بھرپور کوشش کریں گے۔ آج ہم نے دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا۔
مہمان صدر نے اپنے دورے کو دوطرفہ تعاون میں اہم موڑ قرار دیا ۔ کہا دوطرفہ تعلقات کی تذویراتی شراکتداری میں تبدیلی اہم سنگ میل ہے، بزنس فورم میں 30 سے زائد تجارتی معاہدے ہوئے، آج کے بزنس فورم میں 200 میلن ڈالر کے معاہدے ہوئے۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان اور قازقستان اربوں ڈالر تجارت کی بات کر رہے ہوں گے۔
قبل ازیں صدر قازقستان قاسم جومارت توقایووف کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں دوطرفہ سیاسی، معاشی، دفاعی اور عوامی روابط بڑھانے پر اتفاق کرلیا گیا۔ پاک قازقستان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک ہوئے۔ قازقستان کے کسی صدر کا 23 سال بعد یہ پہلا سرکاری دورہ پاکستان ہے۔ ملاقات میں پاکستان قازقستان بزنس فورم کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے نجی روابط بڑھانے پر زور دیا گیا۔ علاقائی رابطہ کاری،ٹرانسپورٹ اور ٹرانزٹ ٹریڈ تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
پانچ سال کے دوطرفہ تجارتی روڈ میپ کے لیے ورکنگ کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی۔ وزیراعظم نے قازق صدر کے دورے کو دوطرفہ تعلقات میں تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ تعلیم، ثقافت،سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، ملاقات کے بعد 37 ایم او یو اور معاہدوں پر دستخط ہوئے۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر وزیرِ اعظم اورصدر قاسم جومارت توکایووف نیمشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔دستخط کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اپنے بھائی صدرقاسم جومارت توکایووف اور ان کے وفدکاخیرمقدم کرتیہیں،یہ دورہ دونوں ملکوں کیتعلقات کونئی جہت دینیکیلییبہت اہم ہے،قازقستان کیکسی صدرکا 23 سال بعد پاکستان کا یہ دورہ ہے،صدرقاسم جومارت توکایووف کیساتھ تعمیری اور مثبت گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا پاکستان اور قازقستان مشترکہ کوششوں سے اقتصادی تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے،مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کوعملی شکل دینے کیلئے پرعزم ہیں،دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالرتک لے جانیکا ہدف ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسندھ وژن 2030 کے حصول میں تعاون قابل ستائش ہے، وزیراعلی کی صدر عالمی بینک کی گفتگو سندھ وژن 2030 کے حصول میں تعاون قابل ستائش ہے، وزیراعلی کی صدر عالمی بینک کی گفتگو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا واحد وارم اپ میچ بارش کے باعث منسوخ اپوزیشن جن معاملات پر بات کرتی ہے وہ بیٹھ کر طے ہوسکتے ہیں، ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں: طارق فضل چوہدری اسلامک ملٹری کائونٹر ٹیررازم کولیشن کے تحت انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ رویوں کے حامل افراد کی اصلاح کا پروگرام شروع دعوت اسلامی کے زیر اہتمام شب برات کے بابرکت موقع پر فیضان مدینہ میں عظیم الشان اجتماع عالمی شہرت یافتہ کرکٹرز کا پی ایس ایل کا حصہ بننے کا اعلان،ڈیون کونوے لیگ میں پہلی مرتبہ ایکشن میں دیکھائی دیں گےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟