سنی دیول اور اکشے کھنہ کی 29 سال بعد ایک ساتھ پردے پر واپسی، کونسی فلم میں جلوہ گر ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
معروف بالی ووڈ اداکار سنی دیول اور اکشے کھنہ ایک بار پھر ایک ساتھ اسکرین پر جلوہ گر ہونے جا رہے ہیں۔
دونوں اداکار اس سے قبل 1997 کی یادگار جنگی فلم بارڈر میں ایک ساتھ نظر آئے تھے۔
اب تقریباً تین دہائیوں بعد یہ جوڑی ایک سنجیدہ اور پُراثر کورٹ روم ڈراما ’اکّا‘ کے ذریعے شائقین کے سامنے آنے کے لیے تیار ہے۔
نیٹ فلکس نے حال ہی میں اپنی آنے والی اوریجنل فلم ’اکّا‘ کا پہلا ٹیزر جاری کیا ہے۔
ایک منٹ سے زائد دورانیے کے اس ٹیزر میں ایک عدالت کا منظر دکھایا گیا ہے، جہاں سنی دیول ایک ماہر وکیل سکندر مہرا کے کردار میں نظر آتے ہیں۔
سنی دیول 33 سال بعد وکیل کے کردار میں نظر آئیں گے۔ اس سے قبل وہ 1993 کی ایوارڈ یافتہ فلم دامنی میں وکیل کا کردار ادا کر چکے ہیں۔
فلم ’اکّا‘ میں اکشے کھنہ کو مرکزی مخالف کردار میں دکھایا گیا ہے، جو ایک سنگین مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔
فلم کی کہانی قانون، اخلاقیات اور انصاف کے نازک توازن کے گرد گھومتی ہے۔
سدھارتھ پی ملہوترا کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم میں دیا مرزا اور تلوتما شومے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
فلم کی ریلیز تاریخ تاحال سامنے نہیں آئی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سنی دیول
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔