عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت کب سے ملنے والی ہے، طارق فضل چوہدری نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جمود ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی معاملات میں بہتری متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کی پھر کسی کو اجازت نہ ملی، بہنوں کا جیل کے قریب دھرنا، سیکیورٹی سخت
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ 8 فروری کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا بھی باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔
اپوزیشن سے روابط، وزیراعظم شہباز شریف کا اہم فیصلہوزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن سے براہ راست رابطے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں جا کر ملاقات کریں گے۔ ان کے بقول اس رابطے کے لیے رانا ثنااللہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
مزید پڑھیے: ’سیاسی مخالفت کو سیاست تک رہنا چاہیے‘، طارق فضل چوہدری کی سیاسی حریف شعیب شاہین کی عیادت
وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے کئی متنازع امور ایسے ہیں جنہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور حکومت ان معاملات پر بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔
’احتجاج پی ٹی آئی کا حق ہے لیکن کاروبار بند نہیں ہونے دیں گے‘طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا آئینی حق ہے تاہم حکومت کسی صورت دکانیں، کاروبار یا تعلیمی ادارے بند نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ڈی چوک کی سیاست اور احتجاج سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور کوئی بھی حکومت انتشار یا بدامنی کی اجازت نہیں دے سکتی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج کے لیے تیار، مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ماضی کے تجربات سے محتاط رہنے کے حامی
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو احتجاج کے نام پر شہریوں کے آئینی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شہری معمولاتِ زندگی جاری رکھیں گے، کاروبار کھلے رہیں گے اور بچے اسکول جاتے رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی عمران خان ملاقاتیں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی عمران خان ملاقاتیں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری طارق فضل چوہدری کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔