لاہور:

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نام نہاد بورڈ آف غزہ سے اپنی شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے غزہ کے معاملے پر کانفرنس کا اعلامیہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو نام نہاد "بورڈ آف پیس" سے اپنی شمولیت فی الفور واپس لینی چاہیے، حکومت پاکستان کو امریکی سامراج  اور ٹرمپ حکومت کے تناظر میں اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کی حمایت کے لیے پارلیمان، قومی اور جمہوری سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کو بحث کا حصہ بنائے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر مشتمل ایک ایسے بلاک کی تشکیل کی حمایت کرنی چاہیے جو عالمی سطح پر فلسطین کے لیے آزادی اور انصاف کے مقدمے کی قیادت کرے۔

اپوزیشن اتحاد نے کہا کہ ایک ایسی خارجہ پالیسی بنائی جائے جو باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہو، ہم ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں اور سامراجی طاقتوں کی جانب سے خود مختار ممالک کے اندرونی معاملات میں ہر قسم کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ ہم وینزویلا، کیوبا، کولمبیا سمیت لاطینی امریکا اور افریقہ کے دیگر تمام مالک کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں جنہیں امریکی جارحیت کا سامنا ہے۔

اپوزیشن نے کہا کہ ہم اس خطے میں جنگ اور تقسیم مسلط کرنے کو مسترد کرتے ہیں جو واشنگٹن کے چین کو گھیرنے اور محدود کرنے کے منصوبوں کا حصہ ہے، ہم ایک ایسی غیر جانب دار خارجہ پالیسی کا مطالبہ کرتے ہیں جو علاقائی امن سے وابستہ ہو اور مغرب کی پراکسی بننے سے اجتناب کرے۔ْ

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتے ہیں

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی