استنبول مذاکرات، توقعات اور خدشات
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: استنبول کی نشست کی شکل و صورت اور مدعوئین کی فہرست سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ ان مذاکرات کو بھی ایران پر دباؤ کیلئے استعمال کرے گا، پہلی کوشش یہ ہوگی کہ کسی طرح ایران تمام ضروری مطالبات کو مان لے۔ اگر نہیں مانتا تو امریکہ ان ثالثوں اور مصالحت کاروں کے سامنے سرخرو ہوگا کہ اس نے انکی بات کو مانا اور مذاکرات کو موقع دیا۔ مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو، ایرانی قوم کو الرٹ رہنا چاہیئے، اسرائیل کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسا معاہدہ طے پائے، جس میں اسکے وجود کے تحفظ کی ضمانت موجود نہ ہو۔ ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی کارروائی خارج از امکان نہیں۔ مذاکرات ضرور کریں، ہماری دعا ہے کہ خدا ان مذاکرات کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امن کی فضاء کو بحال کرے، مگر جنگ کی تیاری پوری رکھیں۔ تحریر: سید اسد عباس
فروری 2026ء انٹیلی جنس اعداد و شمار اور خبروں کے مطابق، خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد 40,000 سے 50,000 کے درمیان ہے۔ جن ممالک میں امریکی فوجی تعینات ہیں، ان میں کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عمان شامل ہیں۔ اسی طرح اردن، عراق، شام اور ترکیہ میں بھی امریکی فوجی موجود ہیں۔ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اپنے مکمل اسٹرائیک گروپ کے ساتھ خطے میں پہنچ چکا ہے، جس میں تقریباً 6,000 اہلکار اور درجنوں لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں امریکی جنگی بحری جہازوں کی مجموعی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے، جن میں گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائیرز اور کوسٹل کمبیٹ شپس شامل ہیں۔ اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک کے عسکری وسائل اس کے علاوہ ہیں۔ امریکہ کے یہ 56000 فوجی اور عسکری لاؤ لشکر ایران کو خوفزدہ کرنے کے لیے جمع کیا گیا، تاہم ایران نے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔
مشرق وسطی کے تقریباً سبھی ممالک سمیت پاکستان و ترکیہ ایران پر کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف ہیں اور سبھی نے ٹرمپ کو خطے میں کسی نئی جنگ کے آغاز سے روکا ہے یا اس حوالے سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ خلیجی ممالک نے واضح طور پر اعلان کیا کہ ایران پر حملے کی صورت میں وہ اپنے ملک کی زمین یا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکہ ان سے اجازت مانگتا ہی کب ہے، تاہم خلیجی ممالک کا یہ مشترکہ انکار ٹرمپ یا امریکی انتظامیہ کے لیے ایک دباؤ ضرور بنا۔ مشرق وسطیٰ میں فقط اسرائیل وہ واحد ملک ہے، جو ایران پر حملہ چاہتا تھا۔ ایران کا جنگ کے لیے آمادہ ہونا اور سر نہ جھکانا اس بات کا باعث بنا کہ امریکہ ایران سے براہ راست مذاکرات کے لیے آمادہ ہوگیا۔ ممکن ہے وہ ابتداء سے یہی چاہتا ہو کہ ایران کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لایا جائے، کیونکہ ایران بارہ روزہ جنگ سے قبل براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہ تھا۔ عمان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات بلواسطہ تھے، جن کے دوران ہی اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور امریکہ نے ایرانی ایٹمی مراکز کو نشانہ بنایا۔
ایران کے قائدین نے بالکل واضح کیا ہے کہ ہم اپنے میزائل پروگرام یا دفاع پر کسی بھی طرح کے مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہیں، جبکہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بات چیت کرسکتے ہیں۔ امریکہ کا مطالبہ واضح ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو ختم کرے، افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرے، میزائل پروگرام کو محدود کرے اور خطے میں موجود پراکسیز سے تعاون ختم کرے۔ خلیجی ممالک کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست مذاکرات 6 فروری 2026ء کو استنبول میں متوقع ہیں۔ امریکہ نے بورڈ آف پیس کے خلیجی ممبران کے علاوہ پاکستان اور ترکیہ کو بھی ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ مدعوئین میں پاکستان، سعودی عرب، عرب امارات، قطر، عمان، مصر اور ترکیہ شامل ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ویٹکاف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی آمد متوقع ہے۔ روس اور چین ان مذاکرات کے لیے مدعو نہیں ہیں، اسی طرح دیگر یورپی ممالک کو بھی شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔
مذاکرات کے بارے میں کوئی بات کہنا قبل از وقت ہے، تاہم مجھے اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ یاد آگیا۔ یہ 1995ء کی بات ہے کہ پاکستان میں ایک دہائی سے جاری خونریزی، دہشت گردی اور قتل و غارت کو روکنے کے لیے حکومتی سرپرستی میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی ایک بیٹھک سترہ نکاتی ضابطہ اخلاق کی تیاری کے لیے منعقد ہوئی۔ یہ اجلاس ملی یکجہتی کونسل کے تحت منعقد کیا گیا، جس میں تمام مذہبی جماعتوں کے قائدین بشمول شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، علامہ سید ساجد علی نقوی، پروفیسر ساجد میر، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، حافظ عبد القادر روپڑی، شیخ حاکم علی، مرید عباس یزدانی اور دیگر شامل تھے۔ اجلاس میں سترہ نکاتی ضابطہ اخلاق کی ایک شق پر بہت لے دے ہوئی، تمام جماعتوں نے باقی شقوں کو قبول کر لیا، تاہم ایک شق کی وجہ سے مرید عباس یزدانی دستخط کرنے سے انکاری ہوگئے۔
مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے تو شیعہ قائدین باہم سر جوڑ کر بیٹھ گئے، تاکہ انکار کرنے والی جماعت کو راضی کیا جائے۔ ان مذاکرات کے پس پردہ ایک دہائی کی خونریزی، حکومتی اصرار اور پاکستان میں امن و امان کا دباؤ تھا۔ یہ تمام عوامل بشمول شیعہ قائدین کا اتفاق یزدانی سے دستخط کروانے میں کامیاب ہوگیا۔ بہرحال جنگ، خونریزی، بدامنی کے مقابلے میں یہ ایک اچھا معاہدہ تھا۔ استنبول کی نشست کی شکل و صورت اور مدعوئین کی فہرست سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ ان مذاکرات کو بھی ایران پر دباؤ کے لیے استعمال کرے گا، پہلی کوشش یہ ہوگی کہ کسی طرح ایران تمام ضروری مطالبات کو مان لے۔ اگر نہیں مانتا تو امریکہ ان ثالثوں اور مصالحت کاروں کے سامنے سرخرو ہوگا کہ اس نے ان کی بات کو مانا اور مذاکرات کو موقع دیا۔ مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو، ایرانی قوم کو الرٹ رہنا چاہیئے، اسرائیل کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسا معاہدہ طے پائے، جس میں اس کے وجود کے تحفظ کی ضمانت موجود نہ ہو۔ ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی کارروائی خارج از امکان نہیں۔ مذاکرات ضرور کریں، ہماری دعا ہے کہ خدا ان مذاکرات کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امن کی فضاء کو بحال کرے، مگر جنگ کی تیاری پوری رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: براہ راست مذاکرات مذاکرات کے لیے ان مذاکرات کو ان مذاکرات کے امریکہ ان شامل ہیں کہ ایران ایران پر کے لیے ا کسی بھی کو بھی بات کو
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔