Islam Times:
2026-07-24@02:41:41 GMT

استنبول مذاکرات، توقعات اور خدشات

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

استنبول مذاکرات، توقعات اور خدشات

اسلام ٹائمز: استنبول کی نشست کی شکل و صورت اور مدعوئین کی فہرست سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ ان مذاکرات کو بھی ایران پر دباؤ کیلئے استعمال کرے گا، پہلی کوشش یہ ہوگی کہ کسی طرح ایران تمام ضروری مطالبات کو مان لے۔ اگر نہیں مانتا تو امریکہ ان ثالثوں اور مصالحت کاروں کے سامنے سرخرو ہوگا کہ اس نے انکی بات کو مانا اور مذاکرات کو موقع دیا۔ مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو، ایرانی قوم کو الرٹ رہنا چاہیئے، اسرائیل کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسا معاہدہ طے پائے، جس میں اسکے وجود کے تحفظ کی ضمانت موجود نہ ہو۔ ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی کارروائی خارج از امکان نہیں۔ مذاکرات ضرور کریں، ہماری دعا ہے کہ خدا ان مذاکرات کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امن کی فضاء کو بحال کرے، مگر جنگ کی تیاری پوری رکھیں۔ تحریر: سید اسد عباس

فروری 2026ء انٹیلی جنس اعداد و شمار اور خبروں کے مطابق، خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد 40,000 سے 50,000 کے درمیان ہے۔ جن ممالک میں امریکی فوجی تعینات ہیں، ان میں کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عمان شامل ہیں۔ اسی طرح اردن، عراق، شام اور ترکیہ میں بھی امریکی فوجی موجود ہیں۔ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اپنے مکمل اسٹرائیک گروپ کے ساتھ خطے میں پہنچ چکا ہے، جس میں تقریباً 6,000 اہلکار اور درجنوں لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں امریکی جنگی بحری جہازوں کی مجموعی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے، جن میں گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائیرز اور کوسٹل کمبیٹ شپس شامل ہیں۔ اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک کے عسکری وسائل اس کے علاوہ ہیں۔ امریکہ کے یہ 56000 فوجی اور عسکری لاؤ لشکر ایران کو خوفزدہ کرنے کے لیے جمع کیا گیا، تاہم ایران نے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔

مشرق وسطی کے تقریباً سبھی ممالک سمیت پاکستان و ترکیہ ایران پر کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف ہیں اور سبھی نے ٹرمپ کو خطے میں کسی نئی جنگ کے آغاز سے روکا ہے یا اس حوالے سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ خلیجی ممالک نے واضح طور پر اعلان کیا کہ ایران پر حملے کی صورت میں وہ اپنے ملک کی زمین یا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکہ ان سے اجازت مانگتا ہی کب ہے، تاہم خلیجی ممالک کا یہ مشترکہ انکار ٹرمپ یا امریکی انتظامیہ کے لیے ایک دباؤ ضرور بنا۔ مشرق وسطیٰ میں فقط اسرائیل وہ واحد ملک ہے، جو ایران پر حملہ چاہتا تھا۔ ایران کا جنگ کے لیے آمادہ ہونا اور سر نہ جھکانا اس بات کا باعث بنا کہ امریکہ ایران سے براہ راست مذاکرات کے لیے آمادہ ہوگیا۔ ممکن ہے وہ ابتداء سے یہی چاہتا ہو کہ ایران کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لایا جائے، کیونکہ ایران بارہ روزہ جنگ سے قبل براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہ تھا۔ عمان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات بلواسطہ تھے، جن کے دوران ہی اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور امریکہ نے ایرانی ایٹمی مراکز کو نشانہ بنایا۔

ایران کے قائدین نے بالکل واضح کیا ہے کہ ہم اپنے میزائل پروگرام یا دفاع پر کسی بھی طرح کے مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہیں، جبکہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بات چیت کرسکتے ہیں۔ امریکہ کا مطالبہ واضح ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو ختم کرے، افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرے، میزائل پروگرام کو محدود کرے اور خطے میں موجود پراکسیز سے تعاون ختم کرے۔ خلیجی ممالک کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست مذاکرات 6 فروری 2026ء کو استنبول میں متوقع ہیں۔ امریکہ نے بورڈ آف پیس کے خلیجی ممبران کے علاوہ پاکستان اور ترکیہ کو بھی ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ مدعوئین میں  پاکستان، سعودی عرب، عرب امارات، قطر، عمان، مصر اور ترکیہ شامل ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ویٹکاف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی آمد متوقع ہے۔ روس اور چین ان مذاکرات کے لیے مدعو نہیں ہیں، اسی طرح دیگر یورپی ممالک کو بھی شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

مذاکرات کے بارے میں کوئی بات کہنا قبل از وقت ہے، تاہم مجھے اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ یاد آگیا۔ یہ 1995ء کی بات ہے کہ پاکستان میں ایک دہائی سے جاری خونریزی، دہشت گردی اور قتل و غارت کو روکنے کے لیے حکومتی سرپرستی میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی ایک بیٹھک سترہ نکاتی ضابطہ اخلاق کی تیاری کے لیے منعقد ہوئی۔ یہ اجلاس ملی یکجہتی کونسل کے تحت منعقد کیا گیا، جس میں تمام مذہبی جماعتوں کے قائدین بشمول شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، علامہ سید ساجد علی نقوی، پروفیسر ساجد میر، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، حافظ عبد القادر روپڑی، شیخ حاکم علی، مرید عباس یزدانی اور دیگر شامل تھے۔ اجلاس میں سترہ نکاتی ضابطہ اخلاق کی ایک شق پر بہت لے دے ہوئی، تمام جماعتوں نے باقی شقوں کو قبول کر لیا، تاہم ایک شق کی وجہ سے مرید عباس یزدانی دستخط کرنے سے انکاری ہوگئے۔

مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے تو شیعہ قائدین باہم سر جوڑ کر بیٹھ گئے، تاکہ انکار کرنے والی جماعت کو راضی کیا جائے۔ ان مذاکرات کے پس پردہ ایک دہائی کی خونریزی، حکومتی اصرار اور پاکستان میں امن و امان کا دباؤ تھا۔ یہ تمام عوامل بشمول شیعہ قائدین کا اتفاق یزدانی سے دستخط کروانے میں کامیاب ہوگیا۔ بہرحال جنگ، خونریزی، بدامنی کے مقابلے میں یہ ایک اچھا معاہدہ تھا۔ استنبول کی نشست کی شکل و صورت اور مدعوئین کی فہرست سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ ان مذاکرات کو بھی ایران پر دباؤ کے لیے استعمال کرے گا، پہلی کوشش یہ ہوگی کہ کسی طرح ایران تمام ضروری مطالبات کو مان لے۔ اگر نہیں مانتا تو امریکہ ان ثالثوں اور مصالحت کاروں کے سامنے سرخرو ہوگا کہ اس نے ان کی بات کو مانا اور مذاکرات کو موقع دیا۔ مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو، ایرانی قوم کو الرٹ رہنا چاہیئے، اسرائیل کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسا معاہدہ طے پائے، جس میں اس کے وجود کے تحفظ کی ضمانت موجود نہ ہو۔ ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی کارروائی خارج از امکان نہیں۔ مذاکرات ضرور کریں، ہماری دعا ہے کہ خدا ان مذاکرات کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امن کی فضاء کو بحال کرے، مگر جنگ کی تیاری پوری رکھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: براہ راست مذاکرات مذاکرات کے لیے ان مذاکرات کو ان مذاکرات کے امریکہ ان شامل ہیں کہ ایران ایران پر کے لیے ا کسی بھی کو بھی بات کو

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف