ملتان، گلشن مارکیٹ میں پیرا فورس کے مبینہ ناجائز آپریشن کے خلاف تاجروں کا شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
تاجر رہنمائوں کا کہنا تھا کہ تاجروں نے اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان سے سامان واپسی کی باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد جب پیرا فورس کے دفتر سے رجوع کیا تو وہاں اہلکار مارکیٹ سے اٹھائی گئی جیکٹس خود پہنے ہوئے تھے، جبکہ دیگر سامان غائب پایا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ گلشن مارکیٹ نیو ملتان میں پیرا فورس کے مبینہ ناجائز اور غیرقانونی آپریشن کے خلاف انجمن تاجران گلشن مارکیٹ کے زیراہتمام شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاج کی قیادت انجمن کے صدر چودھری محمد الیاس، جنرل سیکرٹری چودھری سلیم کمبوہ اور چیئرمین چودھری کاشف نے کی، جبکہ مارکیٹ کے تاجروں کی بڑی تعداد نے مظاہرے میں شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صدر چودھری محمد الیاس، جنرل سیکرٹری چودھری سلیم کمبوہ، چیئرمین چودھری کاشف، چیئرمین مصالحتی کمیٹی حافظ عاقب نعیم اور جوائنٹ سیکرٹری شہزادہ فہد بھٹی نے الزام عائد کیا کہ پیرا فورس کے اہلکار تجاوزات کے نام پر دکانوں کے اندر داخل ہوئے اور قیمتی جیکٹس، جیولری، دوپٹے، ہیٹر، لیڈیز شوز، بریف کیس اور دیگر سامان اپنے ہمراہ لے گئے، مقررین کا کہنا تھا کہ تاجروں نے اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان سے سامان واپسی کی باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد جب پیرا فورس کے دفتر سے رجوع کیا تو وہاں اہلکار مارکیٹ سے اٹھائی گئی جیکٹس خود پہنے ہوئے تھے، جبکہ دیگر سامان غائب پایا گیا، جو بارہا رجوع کرنے کے باوجود تاحال واپس نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آواز بلند کرنے پر پیرا فورس کے اہلکاروں کی جانب سے تاجروں کو مزید ناجائز طور پر تنگ کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کاروبار کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، مقررین نے دعوی کیا کہ پیرا فورس کے مبینہ ناجائز آپریشن کی ویڈیوز اور دیگر ٹھوس شواہد موجود ہیں، جو جلد ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی رِٹ پٹیشن کے ذریعے پیش کئے جائیں گے۔ تاجروں نے خبردار کیا کہ اگر فوری انصاف فراہم نہ کیا گیا تو پیرا فورس کے خلاف قانونی جنگ کے ساتھ ساتھ احتجاج، شٹر ڈاون ہڑتال اور دیگر سخت اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ احتجاج کا دائرہ دیگر مارکیٹوں تک بھی پھیلایا جائے گا، احتجاجی تاجروں نے وزیراعلی پنجاب، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر ملتان سے مطالبہ کیا کہ پرامن تاجروں کو ناجائز طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، تاجروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے اور پیرا فورس اہلکاروں کے ذریعے اٹھایا گیا سامان فوری طور پر واپس دلوایا جائے، بصورت دیگر تاجر برادری ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہو گی، جس کی تمام تر ذمہ داری پیرا فورس کے اہلکاروں پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیرا فورس کے تاجروں نے کیا کہ
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔