حکومت، سیاست، مسلح جدوجہد؛ پرُخار راہوں میں مارے جانے والا سیف الاسلام قذافی کون تھا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
لیبیا کے مقبول ترین لیڈر معمر قذاقی مبینہ بیرونی مداخلت اور اندرونی خلفشار کے باعث بیدردی سے اور کسمپرسی سے بھرپور روپوشی میں قتل کردیئے گئے تھے ان کے بیٹے کا انجام بھی کچھ مختلف نہ ہوا۔
سیف الاسلام قذافی کو مغربی لیبیا کے شہر زنتان میں قتل کر دیا گیا ہے۔ وہ ایک ایسی پُراسرار گولی کا نشانہ بنے جس کا ابھی سراغ لگایا جا رہا ہے اور شاید یہ گتھی کبھی نہ سلجھ پائے۔
گو ان کی سیاسی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ 4 نقاب پوش افراد نے 53 سالہ رہنما سیف الاسلام قذافی کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کیا۔
2011 کی بغاوت کے بعد سے زیادہ تر وقت زنتان ہی میں گزارا۔ وہ اپنے والد کے دور میں بھی طاقتور شخصیت تھے اور اب بھی انھیں آئندہ کا حکمراں سمجھا جا رہا تھا۔
اقتدار کے وارث سے مطلوب ملزم تک
سیف الاسلام قذافی لیبیا کے حکمراں معمر قذافی کے دوسرے بیٹے تھے اور 2011 میں حکومت پلٹ بغاوت سے پہلے انہیں لیبیا کا سب سے بااثر شخص تصور کیا جاتا تھا۔
عرب بہار کے دوران جب لیبیا خانہ جنگی کی لپیٹ میں آیا تو وہ اپنے والد کی حکومت کے دفاع میں پیش پیش رہے۔ اسی دوران ان پر مخالفین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد ہوئے۔
فروری 2011 تک ان کا نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا اور ان پر سفری پابندی لگ گئی تھی۔ جون 2011 میں عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے بھی ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیا۔
نیٹو بمباری اور گرفتاری
مارچ 2011 میں اقوام متحدہ کی اجازت کے بعد نیٹو نے لیبیا میں فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ اسی دوران سیف الاسلام نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے والد انتخابات میں کامیاب نہ ہوئے تو اقتدار چھوڑنے پر آمادہ ہیں تاہم یہ پیشکش مسترد کر دی گئی۔
اکتوبر 2011 میں معمر قذافی اور ان کے بیٹے معتصم کی ہلاکت کے بعد سیف الاسلام روپوش رہے لیکن بعد ازاں زنتان میں گرفتار کر لیے گئے۔
مقدمہ، سزائے موت اور رہائی
سیف الاسلام کو لیبیا میں ہی جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2015 میں طرابلس کی عدالت نے انہیں عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی۔
تاہم 2017 میں زنتان پر قابض ملیشیا نے مشرقی لیبیا کی جانب سے جاری عام معافی کے تحت انہیں رہا کر دیا اگرچہ یہ فیصلہ عالمی طور پر تسلیم شدہ نہیں تھا اور عالمی فوجداری عدالت بدستور انہیں مطلوب قرار دیتی رہی۔
سیاست میں واپسی کی کوشش
رہائی کے کئی برس بعد تک منظرِ عام سے غائب رہنے کے بعد سیف الاسلام نے 2021 میں اچانک دوبارہ سیاست میں قدم رکھا اور صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔
ابتدا میں انہیں نااہل قرار دیا گیا لیکن پھر کاغذات نامزدگی کو قبول کرلیا گیا اور انھوں نے بھی بھرپور تیاریاں شروع کیں تاہم لیبیا کی سیاسی افراتفری کے باعث انتخابات ہی نہ ہو سکے۔
اسی برس ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ لیبیا کی موجودہ قیادت انتخابات سے خوف زدہ ہے۔ اس لیے وہ عوام سطح پر اپنا پیغام پہنچانے کے لیے کام کررہے ہیں۔
اصلاح پسند چہرہ
مغرب سے تعلیم یافتہ اور نرم گفتار شخصیت ہونے کے باعث سیف الاسلام کو اصلاح پسند رہنما سمجھا جاتا ہے۔
انھوں نے 2008 میں لندن اسکول آف اکنامکس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا مقالہ عالمی حکمرانی میں سول سوسائٹی کے کردار سے متعلق تھا۔
2000 سے 2011 تک انہوں نے لیبیا کے مغرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
وہ جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات، لاکربی بم دھماکے کے متاثرین کو معاوضے اور برلن نائٹ کلب و یو ٹی اے فلائٹ 772 جیسے معاملات میں بھی سرگرم رہے۔
انہوں نے بلغاریہ کے پانچ طبی عملے سمیت چھ غیر ملکی طبی کارکنوں کی رہائی میں کردار ادا کیا جن پر لیبیا میں بچوں کو ایچ آئی وی منتقل کرنے کا الزام تھا۔
فلسطین اسرائیل تنازع کا حل پیش کیا
سیف الاسلام نے “اسراطین” کے نام سے فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کے لیے ایک سیکولر یک ریاستی حل کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ انہوں نے فلپائن میں مورو اسلامک لبریشن فرنٹ اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا تھا۔
تاہم ان کی مغربی تعلیمی اور سفارتی سرگرمیوں کے باوجود، 2011 کی خانہ جنگی کے دوران ان پر عائد الزامات اور بعد ازاں عدالتی کارروائیاں ان کی ساکھ پر ہمیشہ بھاری رہیں۔
سیاست میں کامیابی کا خواب قتل ہوگیا
اصلاح پسند سیف الاسلام اپنے والد معمر قذافی کے حامیوں کے لیے امید کی علامت تھے جبکہ مخالفین انھیں ماضی کی آمریت کی ناقیات سمجھتے تھے۔
زنتان میں ان کا قتل لیبیا کی غیر مستحکم سیاست میں ایک اور اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے جس سے خانہ جنگی اور بحران کا دور مزید طویل اور کٹھن تر ہونے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیف الاسلام قذافی سیاست میں لیبیا کی انہوں نے لیبیا کے کے لیے اور ان کے بعد
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔