رشوت خور پنڈت؛ ٹیزر ریلیز ہوتے ہی منوج باچپائی کی فلم ہنگامہ آرائی کا شکار کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
نیٹ فلکس انڈیا کی آنے والی فلم نے ٹیزر کے چند گھنٹوں بعد ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔
اپنی جاندار اداکاری کے باعث منوج باجپائی تھیٹر سے سینما ہالز اور اب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز میں بھی سب سے کامیاب اداکار بنتے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں ممبئی میں ہونے والی ایک تقریب میں ان کی نیٹ فلکس پر آنے والی فلم کا ٹیزر پیش کیا گیا جس میں منوج باجپائی کو ایک بدعنوان پولیس افسر کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔
فلم میں اس کردار کا نام اجے ڈکشت بتایا گیا ہے مگر اسے عرفِ عام میں ’’پنڈت‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے جب کہ فلم کا نام گھوس خور پنڈت ہے۔
ٹیزر منظر عام پر آتے ہی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد صارفین نے اعتراض اٹھایا کہ ’’پنڈت‘‘ جیسے لفظ کو رشوت خوری کے ساتھ جوڑنا ایک مخصوص برادری کو منفی انداز میں پیش کرنے کے مترادف ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عنوانات معاشرتی تعصبات کو تقویت دیتے ہیں اور ذات پات کے حساس مسئلے کو غیر ذمہ دارانہ انداز میں چھیڑتے ہیں۔
کئی پوسٹس میں نیٹ فلکس اور فلم سازوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر یہی لفظ کسی اور ذات یا برادری کے لیے استعمال کیا جاتا تو شدید ردعمل سامنے آتا۔
بعض سوشل میڈیا صارفین نے تو فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا جبکہ کچھ نے فوری طور پر نام تبدیل کرنے کا مطالبہ اٹھایا۔
فلم کے ہدایت کار نیرج پانڈے ہیں، جو اس سے قبل نیٹ فلکس کے لیے ’’خاکی: دی بہار چیپٹر‘‘ جیسی کامیاب سیریز بنا چکے ہیں۔
’’گھوس خور پنڈت‘‘ نیٹ فلکس کے 2026 کے کنٹینٹ لائن اپ کا حصہ ہے اور اسے ایک کرائم ڈرامہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیزر میں کہیں بھی کسی مذہبی یا سماجی برادری کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا، مگر فلم کے نام نے بحث کا رخ ذات پات اور نمائندگی کے حساس موضوع کی طرف موڑ دیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نیٹ فلکس اور فلم ساز اس تنقید پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا فلم کا نام برقرار رہتا ہے یا تبدیل کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیٹ فلکس
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔