نیٹ فلکس انڈیا کی آنے والی فلم نے ٹیزر کے چند گھنٹوں بعد ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کر دیا۔

اپنی جاندار اداکاری کے باعث منوج باجپائی تھیٹر سے سینما ہالز اور اب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز میں بھی سب سے کامیاب اداکار بنتے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں ممبئی میں ہونے والی ایک تقریب میں ان کی نیٹ فلکس پر آنے والی فلم کا ٹیزر پیش کیا گیا جس میں منوج باجپائی کو ایک بدعنوان پولیس افسر کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔

فلم میں اس کردار کا نام اجے ڈکشت بتایا گیا ہے مگر اسے عرفِ عام میں ’’پنڈت‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے جب کہ فلم کا نام گھوس خور پنڈت ہے۔

ٹیزر منظر عام پر آتے ہی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد صارفین نے اعتراض اٹھایا کہ ’’پنڈت‘‘ جیسے لفظ کو رشوت خوری کے ساتھ جوڑنا ایک مخصوص برادری کو منفی انداز میں پیش کرنے کے مترادف ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عنوانات معاشرتی تعصبات کو تقویت دیتے ہیں اور ذات پات کے حساس مسئلے کو غیر ذمہ دارانہ انداز میں چھیڑتے ہیں۔

کئی پوسٹس میں نیٹ فلکس اور فلم سازوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر یہی لفظ کسی اور ذات یا برادری کے لیے استعمال کیا جاتا تو شدید ردعمل سامنے آتا۔

بعض سوشل میڈیا صارفین نے تو فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا جبکہ کچھ نے فوری طور پر نام تبدیل کرنے کا مطالبہ اٹھایا۔

فلم کے ہدایت کار نیرج پانڈے ہیں، جو اس سے قبل نیٹ فلکس کے لیے ’’خاکی: دی بہار چیپٹر‘‘ جیسی کامیاب سیریز بنا چکے ہیں۔

’’گھوس خور پنڈت‘‘ نیٹ فلکس کے 2026 کے کنٹینٹ لائن اپ کا حصہ ہے اور اسے ایک کرائم ڈرامہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیزر میں کہیں بھی کسی مذہبی یا سماجی برادری کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا، مگر فلم کے نام نے بحث کا رخ ذات پات اور نمائندگی کے حساس موضوع کی طرف موڑ دیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ نیٹ فلکس اور فلم ساز اس تنقید پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا فلم کا نام برقرار رہتا ہے یا تبدیل کیا جاتا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نیٹ فلکس

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟