لاہور میں ایک ارب سے زائد کی ڈور اور پتنگیں فروخت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
لاہور:
سیف کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ بسنت کی تیاریوں کے سلسلے میں شہر میں ایک ارب سے زائد کی ڈور اور پتنگیں فروخت ہوگئی ہیں۔
لیگل ایڈوائزر سیف کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن ایڈووکیٹ ملک فیضان نے کہا کہ بسنت سے قبل ڈیڑھ ارب سے زائد مالیت کی ڈور اور گڈی فروخت ہوجائے گی اور لاہور میں ڈور پتنگیں نایاب اور مانگ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
لیگل ایڈوائزر کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے بتایا کہ پون تاوا 250 روپے، ایک تاوا 450 سے 500 روپے میں فروخت ہونے لگا، ڈیڑھ تاوا گڈا 700 روپے سے 800 روپے میں فروخت ہونے لگا ہے۔
لیگل ایڈوائزر نے بتایا کہ چوتھے روز مارکیٹس میں 10 لاکھ سے زائد گڈے پتنگیں فروخت ہوئیں، چوتھے روز مارکیٹس میں 20 ہزار سے زائد پنے فروخت ہوئے، ڈیڑھ تاوا گڈا 700روپے، ایک تاوا 400 روپے اور پونا تاوا 300 روپے اوردو پیس کا پنا 12 سے 15 ہزار کا فروخت ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چوتھے روز پتنگوں کے ریٹ میں اضافے کے ساتھ دستیابی بھی رہی۔
ایڈوکیٹ ملک فیضان احمد نے کہا کہ پہلے روز 16کروڑ روپے، دوسرے روز 18کروڑ روپے اور تیسرے روز 20 کروڑ روپے اور چوتھے روز 68 کروڑ کی خرید و فروخت ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اندرون موچی گیٹ مارکیٹ، اسلام پورہ، ساندہ، سمن آباد، نوناریاں، اچھرہ سمیت دیگر علاقوں میں پتنگوں، گڈوں اور پنوں کی خرید و فروخت جاری ہے۔
ملک فیضان نے کہا کہ شہریوں کو دوسرے شہروں سے پتنگ اور ڈور کے آنے کا انتظار ہے۔
خیال رہے کہ حکومت پنجاب نے 6 فروری کو بسنت کا جشن منانے کے لیے صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر بیان میں شہریوں اور پنجاب کے عوام کو لاہور لبرٹی چوک میں 7 فروری کو بسنت منانے کی دعوت دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔