لاپتہ افراد کے کیسز، اعداد و شمار سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا میں جنوری 2026 تک لاپتا افراد کے 3 ہزار730 کیسز رپورٹ ہوئے، سرکاری دستاویز کے مطابق 2 ہزار 760 لاپتا افراد کے کیسز نمٹا دیے گئے، 970 کیسز تاحال زیرتفتیش ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے حساب سے خیبر پختونخوا میں 1804 لاپتا افراد کو ٹریس کرلیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں 707 افراد گھروں کو واپس پہنچے، صوبے میں 861 لاپتا افراد انٹرنمنٹ سینٹرز میں پائے گئے، 148 لاپتا افراد مختلف جیلوں میں موجود، 88 افراد کی لاشیں ملیں۔
سرکاری دستاویز کے مطابق ملک بھرمیں لاپتا افراد کے کیسز کی تعداد 10 ہزار 806 تک پہنچ گئی ہے۔
پنجاب میں لاپتا افراد کے 1794 کیسز رپورٹ، 1583 نمٹائے گئے، 211 زیر تفتیش ہیں، سندھ میں لاپتا افراد کے 1868 کیسز رپورٹ،1723 کیسز نمٹائے گئے، 145 زیر تفتیش ہیں۔
دستاویز کے مطابق بلوچستان میں لاپتا افراد کے 2917 کیسز میں 2750 نمٹائے گئے، 167 کیسز زیر تفتیش ہیں۔
اسلام آباد میں لاپتا افراد کے 416 کیسز رپورٹ، 372 نمٹائے گئے، 44 کیسز زیر تفتیش ہیں۔
آزاد کشمیرمیں لاپتا افراد کے 71 کیسز رپورٹ، 61 نمٹائے گئے، 10 زیر تفتیش ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں لاپتا افراد کے تمام 10 کیسز نمٹا دیے گئے،
جنوری 2026 تک ملک بھر میں 9 ہزار 259 لاپتا افراد کے کیسز نمٹائے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میں لاپتا افراد کے افراد کے کیسز زیر تفتیش ہیں کیسز رپورٹ نمٹائے گئے
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔