ٹرمپ کا ہارورڈ یونیورسٹی سے ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ہارورڈ یونیورسٹی سے ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ ہم اب ایک ارب ڈالر کے معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ہم مستقبل میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔ تاہم انہوں نے ان مخصوص نقصانات کا ذکر نہیں کیا جو یونیورسٹی کی جانب سے پہنچائے گئے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 2025 ء کے دسمبر میں اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر ہارورڈ یونیورسٹی کی 2ارب ڈالر سے زائد کی گرانٹ روک دی ہے اور وہ اس قدیم یونیورسٹی کے تحقیقی کاموں کے لیے مختص فنڈز کی کٹوتی جاری نہیں رکھ سکتی۔ ہارورڈ یونیورسٹی ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع مہم کا مرکز رہی ہے جس کا مقصد وفاقی فنڈز کو امریکی یونیورسٹیوں پر اپنی مرضی کی تبدیلیاں مسلط کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ جامعات یہود دشمنی اور انتہا پسند بائیں بازو کے نظریات کے زیر اثر ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ برس کہا تھا کہ یونیورسٹی کی پالیسیوں پر کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد ان کی انتظامیہ ہارورڈ کے ساتھ ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئی تھی جس کے تحت یونیورسٹی کو 50 کروڑ ڈالر ادا کرنے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہارورڈ یونیورسٹی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔