Jasarat News:
2026-07-24@02:00:29 GMT

یوم یکجہتی کشمیر: صبر و استقامت کی لازوال داستان

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ وادیِ کشمیر میں گزشتہ پون صدی سے زائد عرصے سے جاری بھارتی جبر و تسلط کے خلاف کشمیری عوام آج 5 فروری کو پاکستان، بھارت اور مقبوضہ وادی سمیت دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال یہ دن سرکاری اور نجی سطح پر خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس کا مقصد بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کرنے والے کشمیری بہنوں بھائیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار اور ان پر بھارتی مظالم کی جانب اقوام عالم کی توجہ مرکوز کرانا ہے ہر سال مقبوضہ وادی میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان کے ساتھ اظہار محبت کیا جاتا ہے اور آج بھی مقبوضہ وادی میں جوش و جذبے کے ساتھ پاکستان سے محبت اور یکجہتی کے اظہار کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس بھارت نے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے جن ریاستی ہتھکنڈوں کا آغاز کیا۔ ان کے تسلسل میں کوئی کمی نہیں آنے دی اور کالے قانون کے تحت کشمیریوں کے گھروں میں چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جن کے دوران نہتے کشمیریوں کو بے دریغ گولیوں کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے بھرپور اظہار کے لیے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1975ء میں اپنے دور حکومت میں یہ پرعزم دن منانے کا آغاز اس نام نہاد معاہدہ کشمیر کیخلاف ملک گیر ہڑتال کی صورت میں کیا تھا جو اس وقت کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ نے اندرا گاندھی کے ساتھ ملی بھگت کے تحت مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں پیش کیا تھا، بعدازاں باضابطہ طور پر یوم یکجہتی کشمیر منانے کا سلسلہ 5 فروری 1990ء کو قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی پاکستان کی اپیل پر شروع ہوا ‘ اس سے قبل 25 جنوری 1990 کو مسلح ہندوئوں نے کپواڑہ میں مسلمانوں کے پر امن اجتماع پر فائرنگ کرکے تیس سے زائد افراد کو شہید کردیا تھا‘ یہ لوگ آزادی کشمیر کی تحریک کے لیے جمع ہوئے تھے اس واقعہ کے بعد ردعمل میں یوم یک جہتی کشمیر منانے کی تجویز ممتاز کشمیری راہنماء‘ ادیب اور دانش ور پروفیسر الیف الدین ترابی نے پیش کی تھی چنانچہ اب ہر سال حکومت کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے جس میں قومی سیاسی جماعتوں سمیت پوری قوم شریک ہو کر غاصب بھارت کو یہ ٹھوس پیغام دیتی ہے کہ کشمیر پر اس کا تسلط بزور قائم نہیں رہ سکتا اور یواین قراردادوں کی روشنی میں استصواب کے ذریعے کشمیری عوام کو بالآخر خود ہی اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔

یہ امر واقعہ ہے کہ کشمیری عوام نے غاصب اور ظالم بھارتی فوجوں اور دوسری سیکورٹی فورسز کے جبر و تشدد کو برداشت کرتے، ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرتے اور متعصب بھارتی لیڈران کے مکر و فریب کا مقابلہ کرتے ہوئے جس صبر و استقامت کے ساتھ اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے، اس کی پوری دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں۔ اس خطہ پر آزادی کی کوئی تحریک نہ اتنی دیر تک چل پائی ہے، نہ آزادی کی کسی تحریک میں کشمیری عوام کی طرح لاکھوں شہادتوں کے نذرانے پیش کیے گئے ہیں اور نہ ہی آزادی کی کسی تحریک میں عفت مآب خواتین نے اپنی عصمتوں کی اتنی قربانیاں دی ہیں جتنی کشمیری خواتین اب تک ظالم بھارتی فورسز کے ہاتھوں لٹتے برباد ہوتے اپنی عصمتوں کی قربانیاں دے چکی ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک انسانی تاریخ کی بے مثال تحریک ہے جس کی پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے منزل بھی متعین ہے۔ اس تناظر میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی درحقیقت پاکستان کی تکمیل و استحکام کی جدوجہد ہے جس کا دامے درمے قدمے سخنے ہی نہیں، عملی ساتھ دینا بھی پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کی بنیادی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ تقسیم ہند کے ایجنڈے کے تحت مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونا تھا جبکہ بانیِ پاکستان قائداعظم نے کشمیر کی جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور جب اس شہ رگ پر 1948ء میں بھارت نے زبردستی اپنی فوجیں داخل کرکے تسلط جمایا تو قائداعظم نے افواج پاکستان کے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی کو دشمن سے شہ رگ پاکستان کا قبضہ چھڑانے کے لیے کشمیر پر چڑھائی کا حکم بھی دیا۔گریسی نے اس حکم پر عمل کیا ہوتا تو کشمیرکا مسئلہ کبھی پیدا ہی نہ ہوتا جبکہ بھارت نے کشمیر پر جبراً قبضہ جما کر وادیِ کشمیر کو متنازعہ بنایا اور پھر خود ہی اس مسئلہ کے حل کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا۔ جس پر یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اپنی الگ الگ قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور کشمیر میں استصواب کے اہتمام کا حکم دیا تو بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو باقاعدہ اپنی ریاست کا درجہ دے دیا۔ بھارتی جبر کے انھی ہتھکنڈوں نے کشمیر کی تحریک آزادی کو مہمیز دی اور آزادی کے لیے کشمیری عوام کی تڑپ کبھی سرد نہیں ہونے دی۔وہ اپنی آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے سمیت جو بھی ہو سکتا ہے، کر رہے ہیں۔انھوں نے بھارتی تسلط کبھی قبول نہیں کیا۔

کشمیری عوام کسی ظلم، بربریت اور سفاکیت کو خاطر میں نہ لائے تو 5 اگست 2019ء کو مودی سرکار نے شب خون مار کر کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اور اسے بھارت میں ضم کردیاجس کے بعد کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے مقبوضہ وادی میں مزید بھارتی فوج بھجوا کر کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا۔ آج مقبوضہ وادی میں بھارتی محاصرے کو 1944 دن گزر چکے ہیںمگر کشمیریوں کے پائے استقلال میں ہلکی سی بھی لرزش پیدا نہیں ہوئی۔ مقبوضہ وادی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی المیہ بدترین صورت اختیار کررہا ہے۔ کشمیری اس کے باوجود حق آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ جبکہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 76 سال سے جاری اس کے مظالم روکنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اب تک کوئی کردار ادا نہیں کیا اور اب تو بورڈ آف پیس بھی ایک عالمی فورم بن گیا ہے‘ اللہ ہی خیر کرے کہ اس فورم سے اب کشمیریوں کے ساتھ کیاسلوک ہوگا‘ ہندوستان میں تو ہندو توا کے ایجنڈے پر گامزن بھارت کاگریبان کب اور کون پکڑے گا اس نے کشمیریوں کے استصواب کے حق کے لیے یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی منظور شدہ درجن بھر قراردادوں کو عملی جامہ پہنانا تو کجا، انھیں پرِکاہ کی حیثیت بھی نہیں دی اور کشمیر کے بھارتی اٹوٹ انگ ہونے کی ہٹ دھرمی برقرار رکھی ہے۔1948ء میں خودمختار ریاست جموں و کشمیر میں اپنی افواج داخل کر کے اس کے غالب حصے پر ناجائز تسلط جمانے کا اصل مقصد پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کا تھا جبکہ پاکستان نے شروع دن سے ہی کشمیر پر یہ اصولی موقف اپنایا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام نے خود کرنا ہے اس لیے اقوام متحدہ کی جانب سے انھیں دیے گئے استصواب کے حق کو تسلیم کر کے بھارت مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام کے لیے رائے شماری کا اہتمام کرے مگر بھارت نے آج تک کشمیریوں کو استصواب کے حق سے محروم رکھا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ استصواب کی صورت میں کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے۔ پاکستان بھی ان کے اسی صادق جذبے کی لاج رکھتے ہوئے ان کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد میں ان کا دامے درمے قدمے سخنے اور سفارتی محاذ پر بھرپور ساتھ دے رہا ہے جس کا بھارت سرکار نے بدلہ لینے کے لیے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور اسے سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا جس کے بعد وہ بلوچستان اور افغانستان کے راستے باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے دکھائی دے رہا ہے اقوام متحدہ کی نمائندہ عالمی ادارے کی حیثیت تب ہی تسلیم ہو پائے گی جب اس کے روبرو آنے والے اس کے رکن ممالک کے باہمی تنازعات کے حل کے لیے اس کی قراردادوں اور فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد ہو گا۔ آج کے یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد بھی اقوام متحدہ اور اس کے رکن بالخصوص بڑے ممالک کی توجہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرنا ہے۔

جاوید الرحمن ترابی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوم یکجہتی کشمیر مقبوضہ وادی میں میں کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کے اقوام متحدہ استصواب کے پاکستان کی کی جدوجہد ا زادی کی بھارت نے کشمیر کی عوام کی دی اور اپنی ا

پڑھیں:

فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں  کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں،  ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو