Jasarat News:
2026-06-02@22:20:11 GMT

یوم یکجہتی کشمیر: صبر و استقامت کی لازوال داستان

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ وادیِ کشمیر میں گزشتہ پون صدی سے زائد عرصے سے جاری بھارتی جبر و تسلط کے خلاف کشمیری عوام آج 5 فروری کو پاکستان، بھارت اور مقبوضہ وادی سمیت دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال یہ دن سرکاری اور نجی سطح پر خصوصی اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس کا مقصد بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد کرنے والے کشمیری بہنوں بھائیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار اور ان پر بھارتی مظالم کی جانب اقوام عالم کی توجہ مرکوز کرانا ہے ہر سال مقبوضہ وادی میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان کے ساتھ اظہار محبت کیا جاتا ہے اور آج بھی مقبوضہ وادی میں جوش و جذبے کے ساتھ پاکستان سے محبت اور یکجہتی کے اظہار کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس بھارت نے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے جن ریاستی ہتھکنڈوں کا آغاز کیا۔ ان کے تسلسل میں کوئی کمی نہیں آنے دی اور کالے قانون کے تحت کشمیریوں کے گھروں میں چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جن کے دوران نہتے کشمیریوں کو بے دریغ گولیوں کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے بھرپور اظہار کے لیے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1975ء میں اپنے دور حکومت میں یہ پرعزم دن منانے کا آغاز اس نام نہاد معاہدہ کشمیر کیخلاف ملک گیر ہڑتال کی صورت میں کیا تھا جو اس وقت کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ نے اندرا گاندھی کے ساتھ ملی بھگت کے تحت مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں پیش کیا تھا، بعدازاں باضابطہ طور پر یوم یکجہتی کشمیر منانے کا سلسلہ 5 فروری 1990ء کو قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی پاکستان کی اپیل پر شروع ہوا ‘ اس سے قبل 25 جنوری 1990 کو مسلح ہندوئوں نے کپواڑہ میں مسلمانوں کے پر امن اجتماع پر فائرنگ کرکے تیس سے زائد افراد کو شہید کردیا تھا‘ یہ لوگ آزادی کشمیر کی تحریک کے لیے جمع ہوئے تھے اس واقعہ کے بعد ردعمل میں یوم یک جہتی کشمیر منانے کی تجویز ممتاز کشمیری راہنماء‘ ادیب اور دانش ور پروفیسر الیف الدین ترابی نے پیش کی تھی چنانچہ اب ہر سال حکومت کے زیراہتمام یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے جس میں قومی سیاسی جماعتوں سمیت پوری قوم شریک ہو کر غاصب بھارت کو یہ ٹھوس پیغام دیتی ہے کہ کشمیر پر اس کا تسلط بزور قائم نہیں رہ سکتا اور یواین قراردادوں کی روشنی میں استصواب کے ذریعے کشمیری عوام کو بالآخر خود ہی اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔

یہ امر واقعہ ہے کہ کشمیری عوام نے غاصب اور ظالم بھارتی فوجوں اور دوسری سیکورٹی فورسز کے جبر و تشدد کو برداشت کرتے، ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرتے اور متعصب بھارتی لیڈران کے مکر و فریب کا مقابلہ کرتے ہوئے جس صبر و استقامت کے ساتھ اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے، اس کی پوری دنیا میں کوئی مثال موجود نہیں۔ اس خطہ پر آزادی کی کوئی تحریک نہ اتنی دیر تک چل پائی ہے، نہ آزادی کی کسی تحریک میں کشمیری عوام کی طرح لاکھوں شہادتوں کے نذرانے پیش کیے گئے ہیں اور نہ ہی آزادی کی کسی تحریک میں عفت مآب خواتین نے اپنی عصمتوں کی اتنی قربانیاں دی ہیں جتنی کشمیری خواتین اب تک ظالم بھارتی فورسز کے ہاتھوں لٹتے برباد ہوتے اپنی عصمتوں کی قربانیاں دے چکی ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک انسانی تاریخ کی بے مثال تحریک ہے جس کی پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے منزل بھی متعین ہے۔ اس تناظر میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی درحقیقت پاکستان کی تکمیل و استحکام کی جدوجہد ہے جس کا دامے درمے قدمے سخنے ہی نہیں، عملی ساتھ دینا بھی پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کی بنیادی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ تقسیم ہند کے ایجنڈے کے تحت مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونا تھا جبکہ بانیِ پاکستان قائداعظم نے کشمیر کی جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور جب اس شہ رگ پر 1948ء میں بھارت نے زبردستی اپنی فوجیں داخل کرکے تسلط جمایا تو قائداعظم نے افواج پاکستان کے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی کو دشمن سے شہ رگ پاکستان کا قبضہ چھڑانے کے لیے کشمیر پر چڑھائی کا حکم بھی دیا۔گریسی نے اس حکم پر عمل کیا ہوتا تو کشمیرکا مسئلہ کبھی پیدا ہی نہ ہوتا جبکہ بھارت نے کشمیر پر جبراً قبضہ جما کر وادیِ کشمیر کو متنازعہ بنایا اور پھر خود ہی اس مسئلہ کے حل کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا۔ جس پر یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اپنی الگ الگ قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور کشمیر میں استصواب کے اہتمام کا حکم دیا تو بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ وادی کو باقاعدہ اپنی ریاست کا درجہ دے دیا۔ بھارتی جبر کے انھی ہتھکنڈوں نے کشمیر کی تحریک آزادی کو مہمیز دی اور آزادی کے لیے کشمیری عوام کی تڑپ کبھی سرد نہیں ہونے دی۔وہ اپنی آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے سمیت جو بھی ہو سکتا ہے، کر رہے ہیں۔انھوں نے بھارتی تسلط کبھی قبول نہیں کیا۔

کشمیری عوام کسی ظلم، بربریت اور سفاکیت کو خاطر میں نہ لائے تو 5 اگست 2019ء کو مودی سرکار نے شب خون مار کر کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اور اسے بھارت میں ضم کردیاجس کے بعد کشمیریوں کی آواز دبانے کیلئے مقبوضہ وادی میں مزید بھارتی فوج بھجوا کر کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا۔ آج مقبوضہ وادی میں بھارتی محاصرے کو 1944 دن گزر چکے ہیںمگر کشمیریوں کے پائے استقلال میں ہلکی سی بھی لرزش پیدا نہیں ہوئی۔ مقبوضہ وادی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی المیہ بدترین صورت اختیار کررہا ہے۔ کشمیری اس کے باوجود حق آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ جبکہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 76 سال سے جاری اس کے مظالم روکنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اب تک کوئی کردار ادا نہیں کیا اور اب تو بورڈ آف پیس بھی ایک عالمی فورم بن گیا ہے‘ اللہ ہی خیر کرے کہ اس فورم سے اب کشمیریوں کے ساتھ کیاسلوک ہوگا‘ ہندوستان میں تو ہندو توا کے ایجنڈے پر گامزن بھارت کاگریبان کب اور کون پکڑے گا اس نے کشمیریوں کے استصواب کے حق کے لیے یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی منظور شدہ درجن بھر قراردادوں کو عملی جامہ پہنانا تو کجا، انھیں پرِکاہ کی حیثیت بھی نہیں دی اور کشمیر کے بھارتی اٹوٹ انگ ہونے کی ہٹ دھرمی برقرار رکھی ہے۔1948ء میں خودمختار ریاست جموں و کشمیر میں اپنی افواج داخل کر کے اس کے غالب حصے پر ناجائز تسلط جمانے کا اصل مقصد پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کا تھا جبکہ پاکستان نے شروع دن سے ہی کشمیر پر یہ اصولی موقف اپنایا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام نے خود کرنا ہے اس لیے اقوام متحدہ کی جانب سے انھیں دیے گئے استصواب کے حق کو تسلیم کر کے بھارت مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام کے لیے رائے شماری کا اہتمام کرے مگر بھارت نے آج تک کشمیریوں کو استصواب کے حق سے محروم رکھا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ استصواب کی صورت میں کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے۔ پاکستان بھی ان کے اسی صادق جذبے کی لاج رکھتے ہوئے ان کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد میں ان کا دامے درمے قدمے سخنے اور سفارتی محاذ پر بھرپور ساتھ دے رہا ہے جس کا بھارت سرکار نے بدلہ لینے کے لیے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور اسے سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا جس کے بعد وہ بلوچستان اور افغانستان کے راستے باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے دکھائی دے رہا ہے اقوام متحدہ کی نمائندہ عالمی ادارے کی حیثیت تب ہی تسلیم ہو پائے گی جب اس کے روبرو آنے والے اس کے رکن ممالک کے باہمی تنازعات کے حل کے لیے اس کی قراردادوں اور فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد ہو گا۔ آج کے یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد بھی اقوام متحدہ اور اس کے رکن بالخصوص بڑے ممالک کی توجہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرنا ہے۔

جاوید الرحمن ترابی گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یوم یکجہتی کشمیر مقبوضہ وادی میں میں کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کے اقوام متحدہ استصواب کے پاکستان کی کی جدوجہد ا زادی کی بھارت نے کشمیر کی عوام کی دی اور اپنی ا

پڑھیں:

محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)محکمہ موسمیات نے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کی پیش گوئی کردی۔رپورٹ کے مطابق بدھ کے روزاسلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیزہواؤں/آندھی چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش (بعض مقامات پر تیز بارش / ژالہ باری )کی توقع ہے۔ خیبرپختونخواکے بیشتر اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان، مالاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، مہمند، خیبر، وزیرستان، اورکزئی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان، ہنگو اور کرم میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کےساتھ وقفے وقفے سے بارش (بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری ) کا امکان ہے۔

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا؟ ارکان پارلیمنٹ نے بتا دیا

 پنجاب کے بیشتر اضلاع راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اوکاڑہ، قصور، خوشاب، سرگودھا، بھکر ، میانوالی، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، راجن پور، رحیم یار خان اور لیہ میں کہیں کہیں تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش (بعض مقامات پر تیز بارش اور ژالہ باری )کی توقع ہے۔بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورخشک جبکہ جنوبی اضلاع میں شدیدگرم رہنے کی توقع۔تاہم شمال مشرقی اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ کوئٹہ، ژوب، شیرانی، زیارت، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، بارکھان ، ڈیرہ بگٹی ، نصیر آباد، کوہلو، موسیٰ خیل، خضدار اور گردونواح میں چند مقامات پر تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان  ہے۔

بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ کے باعث شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

 سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور خشک رہے گا ۔ تاہم بالائی سندھ (سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، گھوٹکی، کشمور، شکارپور) میں تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان  ہے۔کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان  ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت  نوکنڈی، سبی 48، دالبندین 47اور دادو میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد