فرید پراچہ کی زیر قیادت جماعت اسلامی کے وفد کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260205-08-19
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان کے وفد کی چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات، ملاقات میں اسلام آباد اور پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان فرید احمد پراچہ نے کی، وفد میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا اور سیف اللہ گوندل ایڈوکیٹ شامل تھے۔ چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے بعد الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی ہے، جماعت اسلامی پنجاب میں بلدیات کے کالے قانون کے خلاف تحریک چلا رہی ہے اور اسلام آباد میں بھی بلدیاتی انتخابات کے التوا کے خلاف عدالت میں گئے ہیں ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانا آئین پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات نہیں دینا چاہتی، صوبے اور وفاق اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے چیف الیکشن کمشنر کو بتایا ہے کہ بروقت الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمے داری ہے، چیف الیکشن کمشنر سے اس حوالے سے کھل کر بات ہوئی ہے، چیف الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسلام آباد اور پنجاب میں بروقت الیکشن کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے، الیکشن کمشنر نے حکومت کو قانون میں ترمیم کی تجویز دی ہے، اس ترمیم کے لیے پارلیمان میں سادہ اکثریت کی ضرورت ہوگی۔ اس ترمیم سے بلدیاتی اداروں کی مدت پوری ہونے کے بعد خودبخود الیکشن کرادیا جائے گا، ہم اس ترمیم کی حمایت کرتے ہیں، فرید احمد پراچہ نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں کالا قانون لایا گیا ہے، بلدیاتی اداروں کے اختیارات چھین لیے گئے ہیں، نئے بلدیاتی قانون میں ضلعی حکومتوں کو مذاق بنا دیا گیا ہے، بڑی شہروں کے میئرز کو ختم کر دیا گیا ہے، اب بلدیاتی نمائندے حکومت کی گرانٹس کے محتاج ہوں گے، انہوں نے کہا کہ یہ سارا کا سارا کھیل ہارس ٹریڈنگ کے لیے رچایا جا رہا ہے اور غیر جماعتی بلدیاتی الیکشن کرائے جارہے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف مقدمات کا اندراج قابل مذمت ہے، کراچی کے تمام مسائل کے ذمے دار سندھ حکومت اور کراچی کی بلدیاتی حکومت ہے، جماعت اسلامی نے کراچی کو جینے دو مہم شروع کی ہے جو جاری رہے گی۔ امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ اسلام آباد میں 5 بار بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے گئے، اسلام آباد میں نیا آرڈیننس لاکر بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا، ہم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نئے آرڈیننس کو چیلنج کیا ہے، الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کو بروقت منعقد کرائے، الیکشن کمیشن حکومت کے دباؤ میں نہ آئے، نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ گٹروں کے ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے کئی شہروں میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں، بلدیاتی نمائندے نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو مسائل کا سامنا ہے۔
اسلام آباد: جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ وفدکے ہمراہ چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگوکررہے ہیں
نمائندہ جسارت
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات جماعت اسلامی پاکستان فرید احمد پراچہ نے بلدیاتی انتخابات اسلام ا باد میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ کے وفد
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔