Jasarat News:
2026-07-24@03:45:15 GMT

پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260205-03-5
آزادی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ آزادی کی قدر ان مظلوم قوموں سے پوچھو جو غلامی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ہر سال 5 فروری کو پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے جس کا آغاز 1990 میں جماعت اسلامی کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے کیا تھا۔ انہوں نے کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و درندگی کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد کو پاکستانی عوام کے دلوں تک پہنچانے کے لیے یوم یکجہتی کشمیر کا اعلان کیا تھا۔ جس کو بھرپور پذیرائی ملی اور ملک کے چاروں صوبوں میں لوگوں نے اس دن ریلیاں، مارچ، ہاتھوں کی زنجیریں، مظاہرے، سیمینار اور جلوس نکال کر کشمیریوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا شروع کیا۔ بعد ازاں حکومت پاکستان اس دن کو سرکاری سطح پر منانے اور چھٹی کا اعلان کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس وقت نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں۔ بھارت نے 1947 میں جموں وکشمیر پر ناجائز فوجی تسلط قائم کرکے کشمیری عوام کو محکوم بنایا اور وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دینے سے گریزاں ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں رائے شماری کا موقع دیا جائے گا۔ بھارت طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں اور عالمی برادری کی خواہشات کا احترام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد، دیرپا اور مستقل حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی ممکن ہے۔

بھارتی قبضے اور ظلم و جبر کو 78سال گزرگئے ہیں۔ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوج مقبوضہ وادی میں موجود اور ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ 05 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیرکو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو تیزی سے تبدیل کررہا ہے، اس مقصد کے لیے بھارت کی حکومت مقبوضہ علاقے میں قوانین کا اطلاق بھی عمل میں لائی ہے۔ اس طرح چھوٹی سی وادی کو دنیا کی بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے۔ کشمیر پر بھارتی فوجی محاصرہ کو آج 2376 دن ہے۔ بھارت سرزمین کشمیر پر جبری اور ناجائز فوجی تسلط کو جاری رکھنے کے لیے اپنے تمام وسائل کو استعمال کررہا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی کشمیر پالیسی ظلم و ستم، ہٹ دھرمی اور جھوٹ پر مبنی ہے اور یہ پالیسی بھارت کی بڑی نام نہاد جمہوریت ہونے کے دعوئوں کی یکسر نفی کرتی ہے۔ بھارت خطے میں بالادست قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، کشمیری عوام اور پاکستان نے کبھی بھی بھارتی بالادستی قبول نہیں کی ہے۔ بھارت کے موجودہ حکمرانوں خاص طور پر مودی کی جارحانہ پالیسی اور اقدامات نے خطہ کو سنگین خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ بھارت کشمیر میں ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 1947 سے اب تک بھارت کشمیر میں ڈھائی لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے، 1989 سے اب تک 96 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں، اور 23 ہزار کشمیری خواتین بیوہ اور ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ بھارتی فوج کشمیر میں 11 ہزار سے زائد خواتین کے ساتھ زیادتی جبکہ 7 ہزار سے زائد ماورائے عدالت قتل کر چکی ہے، 06 جنوری 1993 کو سوپور میں 43 کشمیریوں کو شہید کیا گیا، 300 دکانوں کو نذر آتش اور 100 سے زائد گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ جنوری 1994 کو کپواڑہ میں 27 کشمیریوں کو شہید کیا گیا، 06 جولائی 2016 کو برہان وانی کی شہادت کے بعد 200 سے زائد لوگوں کو احتجاج کے دوران شہید کیا گیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا جس سے واضح ہوگیا کہ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ کشمیری عوام نہ صرف اپنی سرزمین کی آزادی بلکہ تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو بھی امریکا کا حرامی بچہ قراردیا تھا مگر ہمارے حکمران فلسطین اور کشمیر پر اپنے قائد کے فرمان کے برعکس پالیسیوں پر گامزن ہیں جو شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہے جنہیں قوم اور تاریخ ہرگز معاف نہیں کرے گی۔ اسی طرح وادی سندھ کو سرسبزو شاداب بھی کشمیر سے دریائے سندھ میں آنے والا پانی کرتا ہے جس کو روکنے کے لیے قابض دشمن ملک بھار ت ہرسال ڈیم بناکر پانی کو روکتا ہے اور سندھ کو زرعی و معاشی طور تباہ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ضمیر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ نہ صرف کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم روکیں بلکہ منظور ہونے والی قرارداد پر عملدرآمد کرائیں اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت استعمال کرنے کا موقع دیں تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ مگر بدقسمتی سے یہاں بھی اقوام متحدہ کا دوہرا معیار نظر آتا ہے۔ عراق اور افغانستان پر حملہ کرنے اور مشرقی تیمور اور سوڈان میں عیسائیوں کے لیے آزاد ریاستوں کے قیام کے لیے فوری اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے حل کے لیے بھارت اور اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اور جو قراردادیں منظور کی گئی ہیں ان پر عمل درآمد میں بے بسی کا مظاہرہ کر کے مسلمانوں سے دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے جو ان کی ناکامی اور نااہلی کے سوا کچھ نہیں۔ عسکری قیادت بھی آخری گولی آخری فوجی تک لڑنے والے بیانات سے آگے بڑھ کرکشمیرکی آزادی اور مظالم روکنے کے لیے کچھ عملی اقدامات بھی کرے۔ بھارت کے عزائم کے توڑ کے لیے پوری قوم کو جہاد کے لیے تیار کیا جائے‘ جہاد فی سبیل ہی پاکستان کی بقا اور کشمیر کی آزادی کا روڈ میپ ہے اس پر یکسوئی اختیار کی جائے۔ پاکستانی حکومت ہمیشہ مظلوم کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت اور قوم اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ کشمیرکی آزادی تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ یکجہتی کشمیر کے دن نہ صرف تعلیمی اداروں، مساجد اور سماجی مراکز میں خصوصی دعائوں اور آگاہی پروگرام کا اہتمام کیا جائے گا بلکہ عوام پانچ فروری کے پروگرامات میں بھرپور شرکت کرکے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کریں۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کی پرامن جدوجہد اور شہداء کا خون رنگ لائے گا اور کشمیر جنت نظیر وادی پر آزادی کا سورج طلوع ہوکر رہے گا۔

گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو

مجاہد چنا سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کشمیریوں کو اقوام متحدہ اور کشمیر کی ا زادی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو