پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260205-03-5
آزادی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ آزادی کی قدر ان مظلوم قوموں سے پوچھو جو غلامی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ہر سال 5 فروری کو پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے جس کا آغاز 1990 میں جماعت اسلامی کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے کیا تھا۔ انہوں نے کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و درندگی کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد کو پاکستانی عوام کے دلوں تک پہنچانے کے لیے یوم یکجہتی کشمیر کا اعلان کیا تھا۔ جس کو بھرپور پذیرائی ملی اور ملک کے چاروں صوبوں میں لوگوں نے اس دن ریلیاں، مارچ، ہاتھوں کی زنجیریں، مظاہرے، سیمینار اور جلوس نکال کر کشمیریوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا شروع کیا۔ بعد ازاں حکومت پاکستان اس دن کو سرکاری سطح پر منانے اور چھٹی کا اعلان کرنے پر مجبور ہوئی۔ اس وقت نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں۔ بھارت نے 1947 میں جموں وکشمیر پر ناجائز فوجی تسلط قائم کرکے کشمیری عوام کو محکوم بنایا اور وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دینے سے گریزاں ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو اپنی قراردادوں میں کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں رائے شماری کا موقع دیا جائے گا۔ بھارت طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیریوں اور عالمی برادری کی خواہشات کا احترام کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کا واحد، دیرپا اور مستقل حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی ممکن ہے۔
بھارتی قبضے اور ظلم و جبر کو 78سال گزرگئے ہیں۔ دس لاکھ سے زائد بھارتی فوج مقبوضہ وادی میں موجود اور ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ 05 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیرکو خصوصی حیثیت دینے والے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارت کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو تیزی سے تبدیل کررہا ہے، اس مقصد کے لیے بھارت کی حکومت مقبوضہ علاقے میں قوانین کا اطلاق بھی عمل میں لائی ہے۔ اس طرح چھوٹی سی وادی کو دنیا کی بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے۔ کشمیر پر بھارتی فوجی محاصرہ کو آج 2376 دن ہے۔ بھارت سرزمین کشمیر پر جبری اور ناجائز فوجی تسلط کو جاری رکھنے کے لیے اپنے تمام وسائل کو استعمال کررہا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کی کشمیر پالیسی ظلم و ستم، ہٹ دھرمی اور جھوٹ پر مبنی ہے اور یہ پالیسی بھارت کی بڑی نام نہاد جمہوریت ہونے کے دعوئوں کی یکسر نفی کرتی ہے۔ بھارت خطے میں بالادست قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، کشمیری عوام اور پاکستان نے کبھی بھی بھارتی بالادستی قبول نہیں کی ہے۔ بھارت کے موجودہ حکمرانوں خاص طور پر مودی کی جارحانہ پالیسی اور اقدامات نے خطہ کو سنگین خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ بھارت کشمیر میں ہندوتوا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 1947 سے اب تک بھارت کشمیر میں ڈھائی لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے، 1989 سے اب تک 96 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں، اور 23 ہزار کشمیری خواتین بیوہ اور ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ بھارتی فوج کشمیر میں 11 ہزار سے زائد خواتین کے ساتھ زیادتی جبکہ 7 ہزار سے زائد ماورائے عدالت قتل کر چکی ہے، 06 جنوری 1993 کو سوپور میں 43 کشمیریوں کو شہید کیا گیا، 300 دکانوں کو نذر آتش اور 100 سے زائد گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ جنوری 1994 کو کپواڑہ میں 27 کشمیریوں کو شہید کیا گیا، 06 جولائی 2016 کو برہان وانی کی شہادت کے بعد 200 سے زائد لوگوں کو احتجاج کے دوران شہید کیا گیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا جس سے واضح ہوگیا کہ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ کشمیری عوام نہ صرف اپنی سرزمین کی آزادی بلکہ تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو بھی امریکا کا حرامی بچہ قراردیا تھا مگر ہمارے حکمران فلسطین اور کشمیر پر اپنے قائد کے فرمان کے برعکس پالیسیوں پر گامزن ہیں جو شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہے جنہیں قوم اور تاریخ ہرگز معاف نہیں کرے گی۔ اسی طرح وادی سندھ کو سرسبزو شاداب بھی کشمیر سے دریائے سندھ میں آنے والا پانی کرتا ہے جس کو روکنے کے لیے قابض دشمن ملک بھار ت ہرسال ڈیم بناکر پانی کو روکتا ہے اور سندھ کو زرعی و معاشی طور تباہ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ضمیر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ نہ صرف کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم روکیں بلکہ منظور ہونے والی قرارداد پر عملدرآمد کرائیں اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت استعمال کرنے کا موقع دیں تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ مگر بدقسمتی سے یہاں بھی اقوام متحدہ کا دوہرا معیار نظر آتا ہے۔ عراق اور افغانستان پر حملہ کرنے اور مشرقی تیمور اور سوڈان میں عیسائیوں کے لیے آزاد ریاستوں کے قیام کے لیے فوری اقدامات کیے جاتے ہیں لیکن کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے حل کے لیے بھارت اور اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اور جو قراردادیں منظور کی گئی ہیں ان پر عمل درآمد میں بے بسی کا مظاہرہ کر کے مسلمانوں سے دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے جو ان کی ناکامی اور نااہلی کے سوا کچھ نہیں۔ عسکری قیادت بھی آخری گولی آخری فوجی تک لڑنے والے بیانات سے آگے بڑھ کرکشمیرکی آزادی اور مظالم روکنے کے لیے کچھ عملی اقدامات بھی کرے۔ بھارت کے عزائم کے توڑ کے لیے پوری قوم کو جہاد کے لیے تیار کیا جائے‘ جہاد فی سبیل ہی پاکستان کی بقا اور کشمیر کی آزادی کا روڈ میپ ہے اس پر یکسوئی اختیار کی جائے۔ پاکستانی حکومت ہمیشہ مظلوم کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت اور قوم اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ کشمیرکی آزادی تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ یکجہتی کشمیر کے دن نہ صرف تعلیمی اداروں، مساجد اور سماجی مراکز میں خصوصی دعائوں اور آگاہی پروگرام کا اہتمام کیا جائے گا بلکہ عوام پانچ فروری کے پروگرامات میں بھرپور شرکت کرکے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کریں۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کی پرامن جدوجہد اور شہداء کا خون رنگ لائے گا اور کشمیر جنت نظیر وادی پر آزادی کا سورج طلوع ہوکر رہے گا۔
گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
تھرتھراتا ہے جہان چار سوے و رنگ و بو
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کشمیریوں کو اقوام متحدہ اور کشمیر کی ا زادی کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔