پارلیمنٹ اور 140 کروڑ عوام کو "بھارت امریکہ تجارتی معاہدے" کی سچائی جاننے کا حق ہے، ملکارجن کھڑگے
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کانگریس صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ کے دباؤ میں ہندوستان نے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کیا ہے اور کیا امریکی درآمدات پر صفر محصولات کی منظوری دی گئی ہے جیسا کہ دعویٰ کیا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھڑگے نے "بھارت امریکہ تجارتی معاہدے" کے معاملے پر مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اور 140 کروڑ عوام کو اس معاہدے کی مکمل سچائی جاننے کا حق ہے۔ انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان اور امریکہ گزشتہ کئی برسوں سے مشترکہ اقدار پر مبنی جامع عالمی تزویراتی شراکت داری سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ایسے اہم معاہدوں میں شفافیت بنیادی شرط ہونی چاہیئے۔ ملکارجن کھڑگے نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں طے پانے والے "بھارت امریکہ جوہری معاہدے" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کانگریس کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے ہر مرحلے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اُس تاریخی معاہدے کے مختلف سمجھوتوں پر کھلے مباحث ہوئے اور حکومت نے پارلیمانی روایت کا احترام کیا، جو باہمی ترقی کے عزم کی مثال تھا۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو اس کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ تجارتی معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا مگر ملک کو اس کی کسی بھی شق یا شرط کی تفصیل معلوم نہیں ہے۔ ملکارجن کھڑگے نے نشاندہی کی کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں محصولات کم کر کے اٹھارہ فیصد کیے جانے پر شکریہ ادا کیا لیکن معاہدے کی اصل نوعیت پر خاموشی اختیار کی۔ کانگریس کمیٹی کے صدر نے کہا کہ جب پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے تو حکومت کو ایوان کے اندر بیان دینا چاہیئے تھا، نہ کہ کسی بیرونی پلیٹ فارم پر معاہدے کا ذکر کرنا چاہیئے تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ کے دباؤ میں ہندوستان نے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کیا ہے اور کیا امریکی درآمدات پر صفر محصولات کی منظوری دی گئی ہے جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا زرعی شعبے کو مکمل یا جزوی طور پر امریکی زرعی منڈی کے لیے کھولا جا رہا ہے اور اس کا دیہی معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔ مزید برآں انہوں نے روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر وضاحت طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہندوستان اس سلسلے میں کوئی تبدیلی کرنے جا رہا ہے اور روس کو اس بارے میں کیا پیغام دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مودی حکومت فوری طور پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بیان دے اور تمام ابہام دور کرے تاکہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ملکارجن کھڑگے نے انہوں نے کہ کیا ہے اور کہا کہ
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔