اسلام آباد(نیوز ڈیسک) :پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی،تعلیم،کھیل، ریلوے، مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل ترقی اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کےلئے مفاہمت کی متعدد یادداشتوں اورمعاہدوں پر دستخط کئے گئے ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع ہیں، ایک سال میں دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے، مشترکہ کوششوں سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے ، مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کی عکاس ہیں، سٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،دونوں ممالک غزہ بورڈ آف پیس کے بھی رکن ہیں ، دعاگو ہیں کہ غزہ میں مستقل امن اورخوشحالی آئے جبکہ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد دوست او ر سٹریٹجک شراکت دار ہے، دونو ں ممالک کےدرمیان تجارت و معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے، ایک ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کےلئے مل کر آگے بڑھیں گے،خطے میں امن و استحکام کےلئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں،دفاع کے شعبے میں بھی پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے، پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کےلئے پرعزم ہیں، پاکستانی سرمایہ کاروں کوکاروبار کےلئے پرکشش مواقع فراہم کریں گے۔ بدھ کووزیراعظم ہاؤس میں پاکستان او ر قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کے تبادلوں کی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر قاسم جومارت توکایووف بھی موجود تھے۔پاکستان اور قازقستان کے درمیان کان کنی اور پٹرولیم ،اقوام متحدہ کے امن دستوں ، قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے ، میری ٹائم کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت،ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے ، کسٹمزکے شعبے میں تعاون سے متعلق معاہدے ،ریلوے کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت ،پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری کے شعبوں میں تعاون ،مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کےشعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت، صحت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت ،اے پی پی اور قازقستان کے سرکاری ٹی وی کے درمیان تعاون کے معاہدے،موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کے معاہدے،اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت ،مالیاتی نظم ونسق و بینکاری کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت ،ثقافت کے شعبے میں تعاون کے معاہدے، لاجسٹک کے شعبے میں بھی تعاون کے معاہدے ، ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں تعاون کے معاہدے، بندرگاہوں کے شعبے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کےلئے 19 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے۔ اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ اپنے بھائی صدر قاسم جومارت توکایووف اور ان کے وفد کا دورہ پاکستان پر خیرمقدم کرتے ہیں، یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی جہت دینے کےلئے بہت اہم ہے،قازقستان کے کسی صدر کا 23 سال بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے،صدر قاسم جومارت توکایووف کے ساتھ تعمیری اور مثبت گفتگوہوئی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کو عملی شکل دینے کےلئے پرعزم ہیں،معاہدوں کے حقیقت کا روپ دھارنے سے معاشی اور ثقافتی تعاون میں اضافہ ہوگا،صدر قاسم جومارت توکایووف کےلئے نشان پاکستان کا اعزاز قریبی تعلقات کا عکاس ہے۔ انہو ں نے کہا کہ غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیرنو کےلئے بورڈ آف پیس اہم فورم ہے،پاکستان اور قازقستان غزہ بورڈ آف پیس کے بھی رکن ہیں،دعاگو ہیں کہ غزہ میں مستقل امن ہو اور خوشحالی آئے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ملکوں کےدرمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع ہیں ،ایک سال میں دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے،مشترکہ کوششوں سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے،پاکستان اورقازقستان توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کو مزید فروغ دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے دو طرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں،شراکت داری کو فرو غ دیتے ہوئے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کےلئے پرعزم ہیں ،دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے دو طرفہ تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کریں گے،پاکستان اور قازقستان کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری کا معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس موقع پر قازقستان کے صدرقاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ بھرپور استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں،دوست ملک پاکستان کے دورے پر بہت خوشی ہے،پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد دوست اور سٹرٹیجک شراکت دار ہے،دونوں ملک مشترکہ اقدار و روایات کے امین ہیں،مشترکہ اعلامیہ اور معاہدے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اہم کردار کا معترف ہوں،خطے میں امن و استحکام کےلئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں،دفاع کے شعبے میں بھی پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بہت مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت و معیشت کے شعبے میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے،ایک ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کےلئے مل کر آگے بڑھیں گے،پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کےلئے پرعزم ہیں،ٹرانزٹ ٹریڈ، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی،دونوں ملکوں کے درمیان فضائی روابط بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔قازقستان کے صدر نے کہا کہ پیداواری شعبے میں پاکستان کو پروڈکشن پلانٹ لگانے کی دعوت دیتے ہیں،اسلامک فنانس میں بھی پاکستان کا اہم مقام ہے،اسلامک فنانسنگ کے شعبے میں تعاون پر اضافہ چاہتے ہیں ،سائنس ، تعلیم اور دوسرے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتے ہیں،یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہے،قازقستان پاکستانی سرمایہ کاروں کو کاروبار کےلئے پرکشش مواقع کی فراہمی کےلئے پرعزم ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا پاکستان اور قازقستان کے درمیان میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مختلف شعبوں میں تعاون کے میں تعاون کے معاہدے کے شعبے میں تعاون کے درمیان تجارت کےلئے پرعزم ہیں قازقستان کے صدر انہوں نے کہا کہ کے شعبے میں بھی دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات یادداشتوں اور ایک ارب ڈالر پاکستان کی دینے کے کریں گے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف