دوطرفہ تجارت کو ایک سال میں ایک ارب ڈالر تک لے جائیں گے، وزیراعظم کا قازقستانی صدر کے ہمراہ گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا دورہ پاکستان پوری قوم اور حکومت کے لیے باعث مسرت ہے۔
مختلف معاہدوں کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ کسی قازق صدر کی جانب سے 23 سال بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے، 37 ایم او یوز پر دسخط ہوئے، ان ایم او یوز کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قازقستان کے صدر کے طور پر آپ کو نشان پاکستان عطا ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ ہماری طرف سے آپ کی قیادت کی قدردانی کی نشانی ہے، آج دونوں ممالک کے تذویراتی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، قازقستان کو اللہ تعالیٰ نے بےشمار معدنیات سے نوازا ہے اس کے باوجود قازقستان کے ساتھ پاکستان کی تجارت کا حجم کم ہے، اسے اگلے سال تک ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔