data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو صرف عسکری طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے پسِ پردہ موجود اسباب اور محرکات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک ناانصافی، محرومی اور ریاستی ناکامیوں کا ازالہ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک امن و استحکام کا قیام ممکن نہیں ہو سکے گا۔

منصورہ میں جماعت اسلامی کے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن  نے موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حکومتوں کا عوامی رائے کے بجائے طاقت اور دباؤ کے ذریعے مسلط ہونا سنگین مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ اگر عوام کی مرضی کو نظر انداز کرکے غیر شفاف طریقوں سے اقتدار حاصل کیا جائے گا تو عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی نے کشمیر اور فلسطین کے معاملات پر حکمرانوں کی خاموشی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ بنیادی قومی اور عالمی مسائل ہیں جن پر کمزوری ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کی شمولیت کے بغیر کسی بھی قسم کی ثالثی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین کے معاملے میں ایسے عالمی فورمز کا حصہ بننا غلط ہوگا جو فلسطینیوں کے مؤقف کے برعکس ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی ریاست کے طور پر نہیں ہوا تھا بلکہ اس کا مقصد ایک ایسا نظام قائم کرنا تھا جہاں عدل، انصاف اور اللہ کے احکامات کے مطابق طرزِ حکمرانی ہو۔

حافظ نعیم الرحمٰن   کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آج چند خاندان اقتدار اور وسائل پر قابض ہیں جب کہ عام آدمی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ جماعت اسلامی افراد کے بجائے پورے نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

کراچی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ کراچی پورے پاکستان کی معیشت کا مرکز اور تمام قومیتوں کا شہر ہے، جسے کسی مخصوص لسانی یا خاندانی سیاست کے تحت یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پر مسلط جعلی حکومت سے نجات عوام کا بنیادی حق ہے اور جماعت اسلامی اس مقصد کے لیے عوامی طاقت کے ذریعے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس حوالے سے احتجاجی دھرنا روکنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہوگی۔

حافظ نعیم الرحمٰن   نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو محض طاقت کے زور پر دبانے کے بجائے یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ دہشت گردوں کو مقامی سطح پر سہولت کیسے ملتی ہے۔ یہ صورتحال ریاستی اور انتظامی ناکامی کی واضح علامت ہے جب کہ بلوچ اور قبائلی علاقوں کے عوام کو عزت، احترام اور انصاف فراہم کیے بغیر امن ممکن نہیں۔

انہوں نے ملک میں گورننس کی صورتحال کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں نہ نظام چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور نہ ہی عوام کو سہولت دینے میں کامیاب ہو سکی ہیں۔ بلدیاتی نظام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ آئین اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی واضح ہدایت دیتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے برین ڈرین کو بھی ایک بڑا قومی مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی ماہرین روزگار اور مواقع نہ ہونے کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے ٹیلنٹ ایکسپورٹ کے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو قابل افراد بیرونِ ملک جانے کے بجائے یہاں خدمات انجام دیں گے۔

نجکاری پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے اداروں کو بدانتظامی اور کرپشن سے تباہ کیا جاتا ہے اور پھر انہیں فروخت کر کے کامیابی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

آخر میں نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن   نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی کو منظم کر کے ایک واضح لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھائے گی تاکہ پاکستان کو قبضہ گروہوں سے نجات دلائی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے کے بجائے کیا جا

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن