data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بلوچستان اور خیبر پختون خواہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ اس دہشت گردی میں جہاں داخلی عوامل شامل ہیں وہیں بھارت اور افغانستان کی مداخلت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی تازہ لہر نے ریاست کی رٹ کو ایک خطرناک انداز میں چیلنج کیا ہے۔ دہشت گردوں کا چند گھنٹوں تک صوبے کے مختلف علاقوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنا اور وہاں آزادانہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا ظاہر کرتا ہے کہ معاملات اتنے آسان نہیں ہیں جتنے ہم سمجھ رہے ہیں۔ ہمارے سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کی ان کارروائیوں کا بڑی جرأت کے ساتھ مقابلہ کیا اور تقریباً 125 کے قریب دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ لیکن اس آپریشن کے دوران 17 کے قریب فوجی اور سیکورٹی اداروں کے اہلکار اور 33 کے قریب عام شہریوں نے اپنی جانوں کا نظرانہ بھی دیا۔ دہشت گردوں نے ریاست اور حکومت کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ہم جہاں چاہیں جیسے چاہیں اور جب چاہیں پاکستان میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی مسلسل ہمارے لیے ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ ایک طرف بی ایل اے اور دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی مسلسل دہشت گردی کے ذریعے ہمیں غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بار بار کے اعتراضات کے باوجود بھارت اور افغانستان پاکستان کے تحفظات پر کوئی مثبت جواب نہیں دے رہے۔ چین، سعودی عرب، قطر اور ترکیے نے پاکستان افغانستان تعلقات کی بہتری میں جو بھی سفارتی کوششیں کی ہیں ان کے بھی مثبت نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ ایک طرف مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان میں صوبائی حکومت جس کی قیادت سرفراز بکٹی بطور وزیر اعلیٰ کر رہے ہیں اس پر نہ تو بلوچستان کی سیاسی قیادت اعتبار کرتی ہے اور نہ ہی ان کو عوام کی منتخب حکومت سمجھتی ہے۔ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کا بنیادی مطالبہ ہی یہ ہے کہ جب تک اسلام آباد میں بیٹھے لوگ بلوچستان کے لوگوں کی خواہش کے مطابق حکومتوں کی تشکیل کو ممکن نہیں بنائیں گے تو یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اسی طرح خیبر پختون خوا میں وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا براہ راست ٹکراؤ صوبائی حکومت سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہی عمل دہشت گردی کے خاتمے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ پچھلے دنوں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی کی براہ راست ملاقات ہوئی ہے اور اس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس طرح کی ملاقاتیں مزید ہونی چاہیے تاکہ وفاق اور صوبے کے درمیان جو بھی بد اعتمادی ہے اس کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ لیکن ایک بات وفاقی حکومت کو سمجھنی ہوگی کہ اگر وہ صوبائی حکومت کو نظر انداز کر کے صوبے میں کوئی بھی فوجی آپریشن کرتی ہے تو اس کے منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹکراؤ کے اس ماحول کو ختم کیا جائے اور وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کو بڑھایا جائے۔ وفاق صوبے کے صوبے وفاق کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کی بنیاد پہ ایک مشترکہ حکمت عملی کی راہ اختیار کی جائے۔ اسی طرح حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں جہاں انتظامی اور سیکورٹی کی بنیاد پر طاقت کا استعمال کرنا ہے وہیں ہمیں سیاسی راستہ بھی نکالنا ہے۔ بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں صوبائی قیادت یا جماعتوں یا اقتدار میں شامل افراد کو اس جنگ کی قیادت کرنی ہوگی اور ایک بڑا اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں دہشت گردوں کو بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ جب ہم خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت اور افغانستان دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں تو اس مسئلے پر سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ہمیں ایک بڑی جنگ لڑنی ہوگی اور دنیا کو یہ باور کروانا ہوگا کہ بھارت اور افغانستان نہ صرف پاکستان کو غیر مستحکم کر رہے ہیں بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال میں بھی دہشت گردی کو آگے بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ اسی طرح ہمیں ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اگر ہم نے اس دہشت گردی پر قابو نہ پایا تو اس سے ہمارے دونوں باقی صوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ابھی تو دہشت گردوں کا نشانہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے علاقے ہیں اگر یہ آگ پنجاب اور سندھ کی طرف جاتی ہے تو زیادہ خطرناک مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان اہم سنجیدہ معاملات پر بھی ہمارے پارلیمنٹ جیسے ادارے بے بس نظر آتے ہیں۔ یہ مسائل بھی بار بار دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں لیکن جیسے ہی وہ نجی مجالس میں بیٹھتی ہیں تو دہشت گردی کا سارا بوجھ فوج پر ڈال کر خود کو بری ذمہ قرار دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ کچھ فریقین تو یہ کہتے ہیں کہ اس جنگ میں فیصلہ کرنے کا اختیار یا آزادی ہمارے پاس نہیں ہے اور یہ اختیار صرف فوج کے پاس ہے اسی لیے اس کا علاج بھی اسی کو تلاش کرنا ہے۔ 2022 سے لے کے 2026 تک بلوچستان اور خیبر پختون خوا مسلسل دہشت گردی کے لپیٹ میں ہیں اور ہم انہی صوبوں کے لوگوں کو دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام دے کر معاملات کو اور زیادہ خراب کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جس طرح سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسمبلی کے فلور پہ بلوچ قوم پرستوں کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دیا ہے تو اس سے جو قوم پرست جمہوری سیاست کر رہے ہیں ان میں ایک منفی رد عمل پیدا ہوگا۔ ہمیں بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہوگا اور ان کو سمجھانا ہوگا کہ جو لوگ بھی قوم پرستی کے نام پر ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں اس کے خلاف ہمیں مشترکہ طور پر کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں اس وقت اگر مگر کی پالیسی نہیں چاہیے جو بھی دہشت گرد ہے اس کے خلاف متحد ہونا ریاست سمیت سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمے داری بنتی ہے۔ لیکن اس مشترکہ حکمت عملی کی ساری ذمے داری عملی طور پر ریاست اور حکومت پر زیادہ عائد ہوتی ہے کیونکہ اگر وہ اعتدال کا رویہ اختیار کرے اور ایک دوسرے کو تسلیم کرے تو اس سے مسائل پیدا ہونے کے بجائے کم ہوں گے اور تعاون کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت کا جو بھی موقف ہے اسے سمجھنا ہوگا اور اس سے بات چیت کر کے ہی مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ کیونکہ ہم نے طاقت کو استعمال کرکے دیکھ لیا اس کا ہمیں کوئی بڑا نتیجہ نہیں ملا۔ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مشترکہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ خیبر پختون خوا بلوچستان کی تمام صوبائی سیاسی قیادت کو اکٹھا کرے جس میں انٹیلی جنس کے ادارے بھی بیٹھیں اور ایک دوسرے کی بات کو سمجھ کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں لیکن اگر اسلام آباد میں بیٹھ کر سارے فیصلے ہونے ہیں تو یقینی طور پر اس سے مسائل اور زیادہ پیدا ہوں گے۔ یہی وہ گلہ ہے جو اس وقت بلوچستان میں خیبر پختون خوا کی سیاسی قیادت وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے کر رہی ہے کہ وہ ہمارے موقف کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں جو ہمیں قبول نہیں ہے۔ البتہ دونوں صوبوں کی صوبائی قیادتوں اور جماعتوں کو ایک بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ بلوچستان میں بی ایل اے اور خیبر پختون خوا میں ٹی ٹی پی دہشت گردی کے براہ راست ذمے دار ہیں۔ اس لیے ان دونوں تنظیموں کے بارے میں پاکستان کے اندر کوئی نرم گوشہ نہیں ہونا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت اور افغانستان اور خیبر پختون خوا بلوچستان میں صوبائی حکومت دہشت گردی کے دہشت گردی کی سیاسی قیادت وفاقی حکومت کر رہے ہیں یہ ہے کہ پیدا ہو صوبے کے اور اس جو بھی ہیں کہ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔