وزیراعلیٰ سندھ سے ورلڈ بنک کے صدر اجے بنگا کی ملاقات، جاری منصوبوں پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ورلڈ بنک گروپ کے صدر اجے بنگا نے ملاقات کی۔ سندھ میں ورلڈ بنک کے تعاون سے جاری منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے خوشحال سندھ کے لئے ورلڈ بنک کی مسلسل معاونت کو سراہا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں ورلڈ بنک کا فعال پورٹ فولیو 3.86 ارب ڈالر ہے۔ سندھ حکومت ورلڈ بنک کے ساتھ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ورلڈ بنک کے تعاون سے سماجی تحفظ، پانی، صحت اور دیگر شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ حکومت بچوں کی غذائی قلت کے خاتمے پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ تباہ کن سیلاب کے بعد رہائشی منصوبوں کی کامیاب تکمیل جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ورلڈ بنک کے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔