کراچی:

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے عالمی بینک کے صدر اجے بانگا سے ملاقات کے دوران کہا کہ سندھ وژن 2030 کے حصول میں ورلڈ بینک کا تعاون قابل ستائش ہے اور اس دوران پاکستان کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک 2026 تا 2035 سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بانگا کے درمیان ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس کا مقصد تھا کہ سندھ کی ترقیاتی ترجیحات کو ورلڈ بینک کی روزگار کو اولین ترجیح دینے والی عالمی حکمت عملی اور پاکستان کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (2026 تا 2035) کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔

ورلڈ بینک کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سندھ وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں بینک کے مسلسل تعاون کو سراہا اور بتایا کہ سندھ میں اس وقت ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبوں کی مجموعی مالیت 3.

86 ارب ڈالر ہے جو مختلف شعبہ جات پر مشتمل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سندھ کے طویل مدتی ترقیاتی روڈ میپ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

اجلاس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

روزگار کی تخلیق

ورلڈ بینک کے صدر نے نشان دہی کی کہ دنیا ایک بڑے آبادیاتی تغیر کے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ترقی پذیر ممالک میں آئندہ دہائی کے دوران 1.2 ارب نوجوان افرادی قوت کا حصہ بنیں گے جبکہ صرف 40 کروڑ ملازمتوں کی دستیابی کا امکان ہے۔

اس موقع پر پاکستان میں جہاں آئندہ 5 برسوں میں آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کرنے کی توقع ہے روزگار کی تخلیق کو معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ دانش مندانہ عوامی سرمایہ کاری کی معاونت کے ساتھ نجی شعبے کی قیادت میں روزگار کی تخلیق، ترقیاتی پالیسی کا بنیادی ستون ہونی چاہیے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے چھوٹے اور نئے کاروباری اداروں پر توجہ دینے کا ذکر کیا۔

پانی، صفائی اور غذائی کمی میں کمی

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صاف پینے کے پانی تک رسائی اور زچہ و بچہ صحت کی سہولیات سندھ میں بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کو کم کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد رہائشی تعمیر نو منصوبے کی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے دیہی علاقوں میں اسٹارز واش پروگرام شروع کیا ہے، جسے ورلڈ بینک کے 300 ملین ڈالر کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے 100 ملین ڈالر بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پانی کی فراہمی، صفائی اور گندے پانی کے علاج کے منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر طویل مدتی سرمایہ کاری درکار ہے اور سندھ ان اقدامات کو پورے صوبے تک وسعت دینے کے لیے ورلڈ بینک کو اپنا قابل اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔

اجلاس میں شہری آبی نظام، بشمول کراچی واٹر اور گندے پانی کو صاف کرنے کے منصوبے جیسے ٹی پی 4 کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا جن کے لیے دریائے سندھ کے طاس کے تناظر میں جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔

صحت اور سماجی تحفظ

صحت کے شعبے میں وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے میں ممتا پروگرام اور 1000 دن سندھ مربوط صحت منصوبہ سمیت  اہم پروگراموں کو پورے صوبے تک توسیع دینے کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے بتایا کہ ممتا پروگرام پہلے ہی 15 سے بڑھ کر 22 اضلاع تک پھیل چکا ہے جبکہ 1000 دن منصوبے کے تحت 1600 کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی کی جا رہی ہے جسے حکومت تمام سرکاری صحت مراکز تک وسعت دینا چاہتی ہے۔

ورلڈ بینک کے صدر نے ابتدائی عمر میں غذائیت پر سندھ کی توجہ کو سراہا اور نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جس میں آؤٹ پیشنٹ تھیراپیوٹک پروگرام کے ذریعے بچوں کی زیادہ اسکریننگ شامل ہے۔

زراعت، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور سرمایہ کاری

زراعت اور زرعی کاروبار کو روزگار پیدا کرنے والے اہم شعبے قرار دیا گیا، چھوٹے کسانوں کو گزارہ زراعت سے منافع بخش پیداوار کی جانب منتقل کرنے میں معاون ورلڈ بینک کے ایگری کنیکٹ اقدام پر بھی بات چیت ہوئی اور سندھ کی جانب سے ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور دیہی آمدنی بڑھانے کی کوششوں پر بھی غور کیا گیا۔

مراد علی شاہ نے 5 سالہ سندھ ایس ایم ای ترقی اور روزگار تخلیق پروگرام کی تجویز بھی پیش کی جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانا، پیداواریت بڑھانا، کاروباروں کو باضابطہ بنانا اور خواتین کی معاشی شمولیت کو تیز کرنا ہے۔

مضبوط بنیادی ڈھانچہ اور رہائش

دونوں فریقین نے سندھ سیلاب ہاؤسنگ تعمیر نو پروگرام کا جائزہ لیا جسے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عالمی نمونے کے طور پر قرار دیا گیا، 2.1 ملین گھروں کی تعمیر نو، جن میں سے 1.5 ملین گھروں پر کام جاری ہے، مقامی سطح پر روزگار پیدا کر رہی ہے اور خواتین کو بااختیار بنا رہی ہے جبکہ 100,000 سے زائد خواتین کو پہلی مرتبہ زمین کی ملکیت دی گئی ہے۔

طویل مدتی شراکت داری

اعلامیے کے مطابق اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ میں ترقیاتی اقدامات کو الگ الگ منصوبوں کے بجائے ایک مربوط اور طویل مدتی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے ورلڈ بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ استحکام کو روزگار سے بھرپور، جامع اور ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔

ورلڈ بینک کے صدر نے توانائی، مہارتوں کی ترقی، صحت، زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور مضبوط بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سندھ کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کا آبادیاتی چیلنج خطرے کے بجائے مواقع میں تبدیل ہو سکے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک مراد علی شاہ نے قرار دیا گیا ورلڈ بینک کے کرنے کے لیے بینک کے صدر طویل مدتی سندھ کی کہ سندھ کہا کہ رہی ہے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ