سندھ وژن 2030 کے حصول میں تعاون قابل ستائش ہے، وزیراعلیٰ کی صدر عالمی بینک کی گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کراچی:
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے عالمی بینک کے صدر اجے بانگا سے ملاقات کے دوران کہا کہ سندھ وژن 2030 کے حصول میں ورلڈ بینک کا تعاون قابل ستائش ہے اور اس دوران پاکستان کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک 2026 تا 2035 سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بانگا کے درمیان ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس کا مقصد تھا کہ سندھ کی ترقیاتی ترجیحات کو ورلڈ بینک کی روزگار کو اولین ترجیح دینے والی عالمی حکمت عملی اور پاکستان کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (2026 تا 2035) کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔
ورلڈ بینک کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سندھ وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں بینک کے مسلسل تعاون کو سراہا اور بتایا کہ سندھ میں اس وقت ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبوں کی مجموعی مالیت 3.
انہوں نے زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سندھ کے طویل مدتی ترقیاتی روڈ میپ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
اجلاس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ سندھ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
روزگار کی تخلیق
ورلڈ بینک کے صدر نے نشان دہی کی کہ دنیا ایک بڑے آبادیاتی تغیر کے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ترقی پذیر ممالک میں آئندہ دہائی کے دوران 1.2 ارب نوجوان افرادی قوت کا حصہ بنیں گے جبکہ صرف 40 کروڑ ملازمتوں کی دستیابی کا امکان ہے۔
اس موقع پر پاکستان میں جہاں آئندہ 5 برسوں میں آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کرنے کی توقع ہے روزگار کی تخلیق کو معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔
دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ دانش مندانہ عوامی سرمایہ کاری کی معاونت کے ساتھ نجی شعبے کی قیادت میں روزگار کی تخلیق، ترقیاتی پالیسی کا بنیادی ستون ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے چھوٹے اور نئے کاروباری اداروں پر توجہ دینے کا ذکر کیا۔
پانی، صفائی اور غذائی کمی میں کمی
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صاف پینے کے پانی تک رسائی اور زچہ و بچہ صحت کی سہولیات سندھ میں بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کو کم کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد رہائشی تعمیر نو منصوبے کی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے دیہی علاقوں میں اسٹارز واش پروگرام شروع کیا ہے، جسے ورلڈ بینک کے 300 ملین ڈالر کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے 100 ملین ڈالر بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پانی کی فراہمی، صفائی اور گندے پانی کے علاج کے منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر طویل مدتی سرمایہ کاری درکار ہے اور سندھ ان اقدامات کو پورے صوبے تک وسعت دینے کے لیے ورلڈ بینک کو اپنا قابل اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔
اجلاس میں شہری آبی نظام، بشمول کراچی واٹر اور گندے پانی کو صاف کرنے کے منصوبے جیسے ٹی پی 4 کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا جن کے لیے دریائے سندھ کے طاس کے تناظر میں جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔
صحت اور سماجی تحفظ
صحت کے شعبے میں وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے میں ممتا پروگرام اور 1000 دن سندھ مربوط صحت منصوبہ سمیت اہم پروگراموں کو پورے صوبے تک توسیع دینے کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے بتایا کہ ممتا پروگرام پہلے ہی 15 سے بڑھ کر 22 اضلاع تک پھیل چکا ہے جبکہ 1000 دن منصوبے کے تحت 1600 کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی کی جا رہی ہے جسے حکومت تمام سرکاری صحت مراکز تک وسعت دینا چاہتی ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر نے ابتدائی عمر میں غذائیت پر سندھ کی توجہ کو سراہا اور نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جس میں آؤٹ پیشنٹ تھیراپیوٹک پروگرام کے ذریعے بچوں کی زیادہ اسکریننگ شامل ہے۔
زراعت، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور سرمایہ کاری
زراعت اور زرعی کاروبار کو روزگار پیدا کرنے والے اہم شعبے قرار دیا گیا، چھوٹے کسانوں کو گزارہ زراعت سے منافع بخش پیداوار کی جانب منتقل کرنے میں معاون ورلڈ بینک کے ایگری کنیکٹ اقدام پر بھی بات چیت ہوئی اور سندھ کی جانب سے ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور دیہی آمدنی بڑھانے کی کوششوں پر بھی غور کیا گیا۔
مراد علی شاہ نے 5 سالہ سندھ ایس ایم ای ترقی اور روزگار تخلیق پروگرام کی تجویز بھی پیش کی جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانا، پیداواریت بڑھانا، کاروباروں کو باضابطہ بنانا اور خواتین کی معاشی شمولیت کو تیز کرنا ہے۔
مضبوط بنیادی ڈھانچہ اور رہائش
دونوں فریقین نے سندھ سیلاب ہاؤسنگ تعمیر نو پروگرام کا جائزہ لیا جسے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عالمی نمونے کے طور پر قرار دیا گیا، 2.1 ملین گھروں کی تعمیر نو، جن میں سے 1.5 ملین گھروں پر کام جاری ہے، مقامی سطح پر روزگار پیدا کر رہی ہے اور خواتین کو بااختیار بنا رہی ہے جبکہ 100,000 سے زائد خواتین کو پہلی مرتبہ زمین کی ملکیت دی گئی ہے۔
طویل مدتی شراکت داری
اعلامیے کے مطابق اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ میں ترقیاتی اقدامات کو الگ الگ منصوبوں کے بجائے ایک مربوط اور طویل مدتی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے ورلڈ بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ استحکام کو روزگار سے بھرپور، جامع اور ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر نے توانائی، مہارتوں کی ترقی، صحت، زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور مضبوط بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سندھ کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کا آبادیاتی چیلنج خطرے کے بجائے مواقع میں تبدیل ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک مراد علی شاہ نے قرار دیا گیا ورلڈ بینک کے کرنے کے لیے بینک کے صدر طویل مدتی سندھ کی کہ سندھ کہا کہ رہی ہے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔