ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ریاض میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو قابلِ تجدید توانائی، دفاعی صنعت اور دیگر اہم شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

ترک میڈیا کے مطابق صدر اردوان نے اس موقع پر کہا کہ ترکیہ شام میں استحکام کی حمایت جاری رکھے گا اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر شام کی تعمیرِ نو کے لیے تعاون کرے گا۔ دورے کے اختتام پر صدر اردوان اور ان کے وفد نے بدھ کے روز ریاض سے روانگی اختیار کی۔ انہیں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض ریجن کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے الوداع کیا۔

مزید پڑھیں:   سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پورے خطے کے امن کی ضمانت ہیں، ترک صدر اردوان

دورے کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ سعودی ترک بیان میں شامی حکومت کے ان اقدامات کو سراہا گیا جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور سول امن کے فروغ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ بیان میں شامی سرزمین پر اسرائیلی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے تمام مقبوضہ شامی علاقوں سے فوری انخلا کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں سوڈان، فلسطینی علاقوں اور یمن میں امن و استحکام کی بحالی پر زور دیا گیا، جبکہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ترک صدر رجب طیب اردوان کا دورہ سعودی عرب، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

ترکیہ نے یمن بحران کے حل کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا، خصوصاً ریاض میں منعقد ہونے والے اس جامع مکالمے کو، جس میں یمن کے جنوبی دھڑوں کو یکجا کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یمن میں ایسے اندرونی عناصر کی ہر قسم کی حمایت کا مقابلہ کیا جائے جو ملک کے امن اور سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب اور ترکیہ نے سوڈان میں ایک سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل کے آغاز کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا، جس کا مقصد سویلین حکومت کے ذریعے ملک میں استحکام لانا ہے۔ اس سے قبل منگل کو ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر اردوان کا ریاض کے الیمامہ پیلس میں استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی مذاکرات ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: صدر اردوان کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔

اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار