ایس آئی ایف سی کی معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج، پاکستان کی برآمدات میں تاریخی اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
خصوصی سرکاری سہولت کونسل( ایس آئی ایف سی) کی دانشمندانہ معاشی اور تجارتی اصلاحات کے مثبت ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں میں مضبوط اور تاریخی پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔
ایس آئی ایف سی کی موثر حکمتِ عملی کے باعث جنوری میں پاکستان کی برآمدات پہلی بار ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے 3 ارب ڈالر سے تجاوزکر گئیں، جو ملکی تاریخ میں ایک نمایاں کامیابی ہے۔ برآمدات میں اضافے کے ساتھ درآمدات میں نمایاں کمی سے تجارتی خسارہ بھی واضح طور پر کم ہوا ہے۔
پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں برآمدات 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ درآمدات کم ہو کر تقریبا ساڑھے 5 ارب ڈالررہیں۔ ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں تقریبا 35 فیصد اضافہ اور درآمدات میں تقریبا 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ نمایاں حد تک محدود ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے سات ماہ میں مجموعی برآمدات 18 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 40 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ برآمدات میں یہ اضافہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، روزگار کے وسیع مواقع اور اقتصادی خودمختاری کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مشیرِ خزانہ خرم شہزادکے مطابق پاکستانی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل شعبے کا ہے، جس نے ماہانہ بنیاد پر ویلیو ایڈڈ سیگمنٹ میں دسمبر کے مقابلے میں جنوری میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپورٹس، کیمیکل، فارماسیوٹیکل، سیمنٹ اور انجینئرنگ گڈز سمیت دیگر اہم شعبوں کی برآمدات میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق ویلیو ایڈڈ شعبے ملکی معیشت اور برآمدات میں موثر اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جو پائیدار معاشی ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ شش ماہی بنیاد پر **35 فیصد سے کم ہو کر تقریبا 28 فیصدرہ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کے خاتمے، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور فائنینسنگ ریٹس میں نمایاں کمی جیسے اقدامات برآمدات کے فروغ کے لیے انقلابی ثابت ہوئے ہیں۔ یہ تمام اقدامات وزارتِ خزانہ اور ایس آئی ایف سی کی مشترکہ کوششوں کا مظہر ہیں، جو پاکستان کی تجارتی ترقی اور معاشی استحکام کو مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایس آئی ایف سی برآمدات میں پاکستان کی کی برآمدات ارب ڈالر کے مطابق
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔