data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260205-01-11
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان ‘ قازقستان: 19مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں پر دستخط کیے گئے‘اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے اقتصادی شعبے میں 5 سالہ روڈ میپ اورتجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت کا وزیراعظم ہاؤس پہنچے پر پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر قازقستان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات کے بعد پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر قازقستان نے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے، جسے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔تقریب کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق 19 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔ ان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں سے متعلق تعاون، کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں شراکت داری، قیدیوں کے تبادلے اور میری ٹائم سیکٹر میں تعاون شامل ہے۔پاکستان اور قازقستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے، کسٹمز کے شعبے میں تعاون اور محکمہ ریلوے میں شراکت داری سے متعلق معاہدوں کی دستاویزات کا بھی تبادلہ ہوا۔ ان معاہدوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط اور نقل و حمل کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ن ونوں ممالک نے موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون، ورچوئل اثاثوں میں شراکت داری، پروٹیکشن اور ویٹرنری کے شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا۔ تقریب میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ بھی کیا گیا۔حکام کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان مستقبل کے تکنیکی تعاون اور ڈیجیٹل شراکت داری کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔مفاہمتی یادداشت اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بھی شریک تھے۔وفاقی دارالحکومت میں پاکستان اور قازقستان کے مشترکہ بزم فورم سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کو تجارت کے لیے اپنی بندرگاہوں کے ذریعے قریب ترین راستہ فراہم کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قازقستان اپنی مصنوعات گوادر اور کراچی پورٹ کے ذریعے برآمد کر سکتا ہے، قازقستان کے ساتھ ریل اور روڈ رابطے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ تجارتی حجم 250 ملین ڈالر ہے جو اپنی صلاحیت سے بہت کم ہے، پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے 37 سمجھوتے دوطرفہ تعاون میں سنگ میل ثابت ہوں گے،23 سال بعد کسی بھی قازق صدرکا پاکستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ صدرقازقستان قاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ بزنس فورم کے انعقاد پر وزیراعظم شہبازشریف کا مشکور ہوں، دونوں ملکوں نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم کیا ہے، پاکستان اور قازقستان علاقائی اور عالمی رابطے کا اہم ذریعہ ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعاون خطے کے لیے خوش آئند ہے۔

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری پر مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کر رہے ہیں

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اور قازقستان کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں معاہدوں پر دستخط دونوں ممالک کے کے شعبے میں شراکت داری شہباز شریف میں تعاون دستخط کی کیا گیا

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ