پاک سعودی تعلقات جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر گئے، اہم شعبوں میں تعاون کی غیر معمولی رفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دفاعی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں جس کے واضح اثرات تجارت، سرمایہ کاری، افرادی قوت اور معاشی استحکام کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق کہا کہنا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے نے دوطرفہ تعلقات کو نئی گہرائی دی ہے اور مختلف اہم شعبوں میں تعاون غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
ولی عہد کے متوقع دورے سے تعلقات کو فیصلہ کن موڑ
ریاض میں پاکستانی سفارت خانے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے سفیر پاکستان نے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے متوقع دورہ پاکستان کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ سمجھا جا رہا ہے جو سیاسی اعتماد کے ساتھ ساتھ معاشی اور دفاعی اشتراک کو مزید مضبوط کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب عالم اسلام میں استحکام، ترقی اور مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے قدرتی شراکت دار ہیں۔
تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے عملی مرحلے میں
وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران طے پانے والے سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدے اب عملی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جن کے مثبت نتائج پاکستانی معیشت میں بتدریج ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
سفیر احمد فاروق کے مطابق آئندہ ایک ماہ میں آئی ٹی، زراعت اور ٹیکسٹائل سمیت 8 شعبوں میں مزید معاہدوں کی تکمیل متوقع ہے جس کا ہدف سعودی منڈی میں پاکستانی مصنوعات اور خدمات کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔
سفیر احمد فاروق کے مطابق آئندہ ایک ماہ میں آئی ٹی، زراعت اور ٹیکسٹائل سمیت 8 شعبوں میں مزید معاہدوں کی تکمیل متوقع ہے جن کا ہدف سعودی منڈی میں پاکستانی مصنوعات اور خدمات کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔
پاکستانی برآمدات اور خدمات میں نمایاں اضافہ
اقتصادی اشاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات پہلی بار سالانہ 720 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ خدمات کے شعبے میں برآمدات 590 ملین ڈالر کی سطح عبور کر چکی ہیں۔
ان کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔
افرادی قوت اور ترسیلات زر میں اہم کردار
افرادی قوت کے حوالے سے سفیر پاکستان نے کہا کہ صرف سنہ 2025 کے دوران تقریباً 5 لاکھ پاکستانی روزگار کے لیے سعودی عرب آئے جبکہ مملکت میں مقیم تقریباً 30 لاکھ پاکستانی مجموعی طور پر پاکستان کی ترسیلات زر کا قریب 25 فیصد حصہ فراہم کر رہے ہیں جو ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا ہے۔
سفارت خانہ برادری کی فلاح و بہبود میں فعال
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ پاکستانی برادری کے مسائل کے حل اور فلاح وبہبود کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہا ہے اور سفارت خانے کے تمام شعبے پاکستانی شہریوں کو مؤثر رہنمائی اور سہولت فراہم کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی اسٹریٹجک شراکت داری پاک سعودی تعلقات پاکستان سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک سعودی اسٹریٹجک شراکت داری پاک سعودی تعلقات پاکستان میں پاکستانی میں پاکستان شراکت داری پاک سعودی کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔