پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات دفاعی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں جس کے واضح اثرات تجارت، سرمایہ کاری، افرادی قوت اور معاشی استحکام کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق کہا کہنا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے نے دوطرفہ تعلقات کو نئی گہرائی دی ہے اور مختلف اہم شعبوں میں تعاون غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔

ولی عہد کے متوقع دورے سے تعلقات کو فیصلہ کن موڑ

ریاض میں پاکستانی سفارت خانے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے سفیر پاکستان نے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے متوقع دورہ پاکستان کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ سمجھا جا رہا ہے جو سیاسی اعتماد کے ساتھ ساتھ معاشی اور دفاعی اشتراک کو مزید مضبوط کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب عالم اسلام میں استحکام، ترقی اور مشترکہ مفادات کے لیے ایک دوسرے کے قدرتی شراکت دار ہیں۔

تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے عملی مرحلے میں

وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران طے پانے والے سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدے اب عملی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جن کے مثبت نتائج پاکستانی معیشت میں بتدریج ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

سفیر احمد فاروق کے مطابق آئندہ ایک ماہ میں آئی ٹی، زراعت اور ٹیکسٹائل سمیت 8 شعبوں میں مزید معاہدوں کی تکمیل متوقع ہے جس کا ہدف سعودی منڈی میں پاکستانی مصنوعات اور خدمات کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔

سفیر احمد فاروق کے مطابق آئندہ ایک ماہ میں آئی ٹی، زراعت اور ٹیکسٹائل سمیت 8 شعبوں میں مزید معاہدوں کی تکمیل متوقع ہے جن کا ہدف سعودی منڈی میں پاکستانی مصنوعات اور خدمات کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔

پاکستانی برآمدات اور خدمات میں نمایاں اضافہ

اقتصادی اشاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات پہلی بار سالانہ 720 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ خدمات کے شعبے میں برآمدات 590 ملین ڈالر کی سطح عبور کر چکی ہیں۔

ان کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔

افرادی قوت اور ترسیلات زر میں اہم کردار

افرادی قوت کے حوالے سے سفیر پاکستان نے کہا کہ صرف سنہ 2025 کے دوران تقریباً 5 لاکھ پاکستانی روزگار کے لیے سعودی عرب آئے جبکہ مملکت میں مقیم تقریباً 30 لاکھ پاکستانی مجموعی طور پر پاکستان کی ترسیلات زر کا قریب 25 فیصد حصہ فراہم کر رہے ہیں جو ملکی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا ہے۔

سفارت خانہ برادری کی فلاح و بہبود میں فعال

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ پاکستانی برادری کے مسائل کے حل اور فلاح وبہبود کے لیے پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہا ہے اور سفارت خانے کے تمام شعبے پاکستانی شہریوں کو مؤثر رہنمائی اور سہولت فراہم کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی اسٹریٹجک شراکت داری پاک سعودی تعلقات پاکستان سعودی عرب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک سعودی اسٹریٹجک شراکت داری پاک سعودی تعلقات پاکستان میں پاکستانی میں پاکستان شراکت داری پاک سعودی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم