پاکستان میں1 کروڑ افراد دماغی و اعصابی امراض کا شکار ہیں‘،ڈاکٹر محمد واسع
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں دماغی اور اعصابی امراض کے علاج اور بحالی کے لیے قائم کیے جانے والے ادارے کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈیزیزز اینڈ ری ہیبلی ٹیشن (KIND-R)کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا،جہاں روزانہ ایک ہزار مریضوں کو مفت ا طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں 150 بستروں پر مشتمل رہائشی اِن پیشنٹ وارڈ قائم کیا جائے گا تاکہ مریضوں کو مسلسل علاج اور نگرانی فراہم کی جا سکے ، تیسرے مرحلے میں میڈیکل کالج و یونیورسٹی اورپاکستان کے 130 اضلاع میں سینٹرلائزڈ ری ہیب سینٹرز قائم کرنے کا طویل المدتی منصوبہ بھی شامل ہے، جو ملک میں نیورولوجی اور ری ہیبلی ٹیشن کے شعبے میں نئے معیار قائم کرے گا۔واضح رہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد دماغی و اعصابی امراض کا شکار ہیں،جنمیں چالیس فیصد بچے ہیں۔ کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈیزیزز اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کی افتتاح تقریب سے کائنڈ آرکے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، ہیلپنگ ہینڈ امریکا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید صدیقی،ہیلپنگ ہینڈ کے ڈاکٹر محسن انصاری، معروف سابق کرکٹر وکپتان یونس خان و دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر کائنڈ آرکے چیف آپریٹنگ آفیسر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک،ڈاکٹر اظہر چغتائی،ڈاکٹر ثاقب انصاری،گلشنِ اقبال ٹاؤن کے ناظم ڈاکٹر فواد احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔ کائنڈ آر کے افتتاحی تقریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادکے علاوہ مریضوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد دماغی و اعصابی امراض کا شکار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔