data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں دماغی اور اعصابی امراض کے علاج اور بحالی کے لیے قائم کیے جانے والے ادارے کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈیزیزز اینڈ ری ہیبلی ٹیشن (KIND-R)کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا،جہاں روزانہ ایک ہزار مریضوں کو مفت ا طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں 150 بستروں پر مشتمل رہائشی اِن پیشنٹ وارڈ قائم کیا جائے گا تاکہ مریضوں کو مسلسل علاج اور نگرانی فراہم کی جا سکے ، تیسرے مرحلے میں میڈیکل کالج و یونیورسٹی اورپاکستان کے 130 اضلاع میں سینٹرلائزڈ ری ہیب سینٹرز قائم کرنے کا طویل المدتی منصوبہ بھی شامل ہے، جو ملک میں نیورولوجی اور ری ہیبلی ٹیشن کے شعبے میں نئے معیار قائم کرے گا۔واضح رہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد دماغی و اعصابی امراض کا شکار ہیں،جنمیں چالیس فیصد بچے ہیں۔ کراچی انسٹیٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈیزیزز اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کی افتتاح تقریب سے کائنڈ آرکے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع، ہیلپنگ ہینڈ امریکا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید صدیقی،ہیلپنگ ہینڈ کے ڈاکٹر محسن انصاری، معروف سابق کرکٹر وکپتان یونس خان و دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر کائنڈ آرکے چیف آپریٹنگ آفیسر پروفیسر ڈاکٹر عبد المالک،ڈاکٹر اظہر چغتائی،ڈاکٹر ثاقب انصاری،گلشنِ اقبال ٹاؤن کے ناظم ڈاکٹر فواد احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔ کائنڈ آر کے افتتاحی تقریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادکے علاوہ مریضوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک کروڑ افراد دماغی و اعصابی امراض کا شکار ہیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟