بھارت:بزرگ مسلم شخص پروحشیانہ حملہ،جوتوں سے پٹائی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
باڑمیر: مودی کے ہندوتوا بھارت میں مسلم شہریوں پرمظالم روز کا معمول بن گئے ہیں۔
تازہ واقعے میں بھارتی ریاست راجستھان کے باڑمیر میں ایک مسلم بزرگ پر وحشیانہ حملہ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ ایک نوجوان نے گالی گلوچ کرتے ہوئے بزرگ شخص کو جوتوں اور لاتوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعہ کے پیچھے بکریوں کا تنازع بتایا جا رہا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم نوجوان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ واقعہ گدرا روڈ تھانہ علاقہ کے تحت ہمی پورہ گائوں میں پیش آیا۔
گدرا روڈ پولیس اسٹیشن آفیسر مکندن کے مطابق، 50 سالہ شیرو خان، جو لالے کا تلہ، گدرا روڈ کے رہنے والے ہیں، نے منگل کی شام کو رپورٹ درج کرائی۔
30 سالہ بھنور پوری ولد شیو پوری ساکن ہیر پورہ پر حملہ کا الزام ہے۔ بھنور پوری کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
یہ بزرگ 31 جنوری کو بھنور پوری کے گھر پہنچے، بکریوں پر جھگڑا ہوا، اس کے بعد بھنورپوری نے زمین پر بیٹھے بزرگ کے سر پر جوتوں سے مارنا شروع کر دیا۔
بزرگ نے التجا کی لیکن وہ شخص بدستور گالیاں اور مار پیٹ کرتا رہا، اس کے بعد بزرگ کھڑا ہونے میں کامیاب ہو گیا اور وہاں سے چلا گیا۔
اس کے بعد نوجوانوں نے اسے لات مار دی۔ پھر ایک اور آدمی اس کے پیچھے بھاگا۔ واقعے کی 36 سیکنڈ کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :