پاکستان کا اقوامِ متحدہ سے بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ، سلامتی کونسل سے فوری اقدام کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سلامتی کونسل کے پابندیوں کے نظام کے تحت دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے فوری کارروائی کی جائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے فہرست میں شامل کرنے کی درخواست پہلے ہی زیرِ غور ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دہشتگردی کے باعث بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ کونسل 1267 پابندیوں کے نظام کے تحت بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے جلد فیصلہ کرے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف سرگرم بی ایل اے کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل، حقیقت آشکار
سفیر عاصم افتخار نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں کی مذمت پر سلامتی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی برادری کی جانب سے یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور سرحد پار بیٹھے سرپرستوں، مالی معاونین اور سہولتکاروں کو بے نقاب کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی ہے، جہاں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اور بھاری معاشی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ ان کے مطابق القاعدہ کی مرکزی قیادت کے خاتمے اور داعش کے علاقائی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔
سفیر عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے دہشتگرد گروہ، جن میں فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ شامل ہیں، دوبارہ متحرک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے بلا خوف و خطر کارروائیاں کر رہے ہیں اور پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی حمایت سے ملک کے اندر خونریز حملوں میں ملوث ہیں۔ سفیر کے مطابق حالیہ دنوں میں بی ایل اے نے بلوچستان میں متعدد مقامات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن کے نتیجے میں 48 بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی میں 145 دہشتگرد مارے گئے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کو بھارت کی سرپرستی حاصل، بھرپور کارروائی ہونی چاہیے، بیرسٹر گوہر
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال امریکی محکمہ خارجہ بھی بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان ہتھیاروں کا دہشتگردوں کے ہاتھ لگنا پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف بلاامتیاز، اجتماعی اور مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے اور انسدادِ دہشتگردی کے معاملے میں دوہرے معیار ترک کیے جائیں۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کی بھی مذمت کی اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عوام کی جائز جدوجہد کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ رواں سال عالمی انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے کے موقع پر عالمی برادری کو ایک بار پھر مشترکہ عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کثیرالجہتی اور اجتماعی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل امریکی محکمہ خارجہ بی ایل اے دہشتگرد سلامتی کونسل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل امریکی محکمہ خارجہ بی ایل اے دہشتگرد سلامتی کونسل سفیر عاصم افتخار نے دہشتگرد تنظیم قرار سلامتی کونسل دہشتگردی کے بی ایل اے کو سلامتی کو نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز