پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) سے مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سلامتی کونسل کے پابندیوں کے نظام کے تحت دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے فوری کارروائی کی جائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے فہرست میں شامل کرنے کی درخواست پہلے ہی زیرِ غور ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دہشتگردی کے باعث بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ کونسل 1267 پابندیوں کے نظام کے تحت بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے جلد فیصلہ کرے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے خلاف سرگرم بی ایل اے کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل، حقیقت آشکار

سفیر عاصم افتخار نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں کی مذمت پر سلامتی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی برادری کی جانب سے یکجہتی اور حمایت کا بھرپور اظہار ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور سرحد پار بیٹھے سرپرستوں، مالی معاونین اور سہولتکاروں کو بے نقاب کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی ہے، جہاں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان اور بھاری معاشی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ ان کے مطابق القاعدہ کی مرکزی قیادت کے خاتمے اور داعش کے علاقائی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔

سفیر عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے دہشتگرد گروہ، جن میں فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ شامل ہیں، دوبارہ متحرک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے بلا خوف و خطر کارروائیاں کر رہے ہیں اور پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی حمایت سے ملک کے اندر خونریز حملوں میں ملوث ہیں۔ سفیر کے مطابق حالیہ دنوں میں بی ایل اے نے بلوچستان میں متعدد مقامات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن کے نتیجے میں 48 بے گناہ شہری شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی میں 145 دہشتگرد مارے گئے۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کو بھارت کی سرپرستی حاصل، بھرپور کارروائی ہونی چاہیے، بیرسٹر گوہر

انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال امریکی محکمہ خارجہ بھی بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان ہتھیاروں کا دہشتگردوں کے ہاتھ لگنا پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے دہشتگرد گروہوں کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف بلاامتیاز، اجتماعی اور مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے اور انسدادِ دہشتگردی کے معاملے میں دوہرے معیار ترک کیے جائیں۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کی بھی مذمت کی اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عوام کی جائز جدوجہد کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ رواں سال عالمی انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے کے موقع پر عالمی برادری کو ایک بار پھر مشترکہ عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کثیرالجہتی اور اجتماعی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل امریکی محکمہ خارجہ بی ایل اے دہشتگرد سلامتی کونسل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل امریکی محکمہ خارجہ بی ایل اے دہشتگرد سلامتی کونسل سفیر عاصم افتخار نے دہشتگرد تنظیم قرار سلامتی کونسل دہشتگردی کے بی ایل اے کو سلامتی کو نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار