بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے منگل کے روز اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا، جس میں آئندہ 5 برس کے لیے 26 ترجیحی نکات پیش کیے گئے ہیں۔ جماعت کے مطابق یہ منشور قومی خودمختاری، سماجی انصاف، معاشی اصلاحات اور جمہوری احتساب کو مرکزِ نگاہ بناتے ہوئے ملک کو ایک محفوظ اور انسان دوست ریاست بنانے کا خاکہ پیش کرتا ہے۔

جماعتِ اسلامی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ A Safe and Humane Bangladesh کے عنوان سے پیش کیے گئے وژن کا مقصد قومی مفاد پر کوئی سمجھوتا کیے بغیر ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار ترقی پر مبنی ریاست کا قیام ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل سنگین الزامات، طارق رحمان کا جعلی بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا دعویٰ

منشور کے اہم نکات میں قومی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے، جبکہ ایک ایسے معاشرے کے قیام کا وعدہ کیا گیا ہے جو ہر قسم کے امتیاز سے پاک اور انصاف و مساوات پر مبنی ہو۔

جماعت نے نوجوانوں کو حکمرانی کے عمل میں ترجیحی کردار دینے اور خواتین کے لیے باوقار، محفوظ اور فعال شرکت کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ امن و امان کے حوالے سے ملک کو منشیات، بھتہ خوری اور دہشتگردی سے پاک بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

منشور میں بدعنوانی کے مکمل خاتمے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات اور دیانت دار قیادت پر زور دیا گیا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی پر مبنی جدید معاشرے کی تشکیل اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کا وعدہ بھی شامل ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے لیے مفت درخواستیں اور میرٹ پر بھرتی کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔

معاشی شعبے میں مالیاتی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور شفاف و پائیدار معیشت کی تعمیر کو ترجیح دی گئی ہے۔ جمہوری اصلاحات کے تحت شفاف انتخابات، متناسب نمائندگی (PR) کے نظام، نگران حکومت کے نظام کی مضبوطی اور فعال جمہوریت کے استحکام پر زور دیا گیا ہے۔

انصاف اور انسانی حقوق کے باب میں ماضی میں مبینہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے قتل، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت اقدامات کی تحقیقات اور احتساب کا وعدہ کیا گیا ہے، جبکہ بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

منشور میں جولائی تحریک کی تاریخ کے تحفظ، شہداء اور زخمی کارکنوں کے خاندانوں کی بحالی اور جولائی چارٹر پر عملدرآمد کا عزم بھی شامل ہے۔ زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی انقلاب، کسانوں کی معاونت اور 2030 تک ملاوٹ سے پاک خوراک کے حصول کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے ’تین صفر‘ منصوبہ پیش کیا گیا ہے، جس میں صفر ماحولیاتی تباہی، صفر فضلہ اور صفر سیلابی خطرات شامل ہیں۔ صنعتی ترقی کے لیے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور بھاری صنعتوں کے فروغ، مزدوروں کی اجرت اور کام کے حالات بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے ریپڈ ایکشن بٹالین کا نام اور وردی کیوں تبدیل کی جارہی ہے؟

منشور کے مطابق تمام شہریوں کو اکثریت یا اقلیت کے فرق کے بغیر مساوی حقوق دیے جائیں گے، جبکہ پسماندہ طبقات کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ صحت کے شعبے میں مرحلہ وار مفت جدید علاج اور تعلیم کے میدان میں بنیادی اصلاحات اور مرحلہ وار مفت تعلیم کا وعدہ کیا گیا ہے۔

مہنگائی پر قابو پانے، کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے سستی رہائش، ٹرانسپورٹ نظام میں انقلابی تبدیلی، بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کو ووٹ کا حق اور قومی ترقی میں متناسب شمولیت بھی منشور کا حصہ ہے۔

جماعتِ اسلامی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آمرانہ طرزِ حکمرانی کی واپسی روکنے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا، جبکہ عالمی معیار کے سماجی تحفظ کے نظام اور ایک شفاف، جوابدہ فلاحی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش جماعت اسلامی منشور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کیا گیا ہے بنگلہ دیش کو یقینی کا وعدہ کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت