خیبر پختونخوا‘بلوچستان کے حالات سنگین،دہشت گردی کے اسباب کو ختم کرنا ہوگا‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260205-01-9
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر رسم کے طور پر نہ منائیں، مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط اور ظلم کے خلاف واضح اور جاندار موقف اپنایا جائے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات سنگین ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اسباب پر غور کرنا ہوگا۔ ملک میں دہشت گردی کی بڑی وجہ امریکا سے دوستی ہے‘ پاکستان کا غزہ امن بورڈ کا حصہ بننا قوم کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ مرکزی تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری اطلاعات شکیل ترابی، ناظم تربیت گاہ حافظ سیف الرحمن بھی اس موقع پر موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی گزشتہ کئی دہائیوں سے حکمرانی کررہی ہیں ، ان کا طرزِ حکمرانی دنیا میں بدترین گورننس کی مثال ہے، ملک کے ہر شعبہ کو تباہ کرنے کے بعد شریف اور بھٹو خاندان کی تیسری نسل کو حکمرانی کے لیے تیار کیا جارہا ہے، خدا کا شکر ہے کہ اب عوام ان کے بہکاوے میں نہیں آرہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول زرداری کو ونڈر بوائے کے طور کے پیش ہونے کے بعد اب مریم نواز نے بھی ونڈر لیڈی کی حیثیت سے بریفنگ دی ہے تاہم ونڈر لیڈی کی برین ڈرین سے متعلق گفتگو پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے، پنجاب کے حکمرانوں کو ادارکاریوں کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا۔ امیر جماعت اسلامی نے سوال کیا کہ حکمرانوں کے بقول پنجاب میں گورننس بہتر ہے تو اسکولوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیوں کیا جارہا ہے؟ عوام سے خوفزدہ ن لیگ پنجاب میں غیر جمہوری، عوام دشمن بلدیاتی قانون لے کر آئی۔ فارم 47 کی مدد سے سندھ پر پیپلز پارٹی قابض ہے ، 17 برس سے صوبے پر قابض پارٹی نے کراچی میئر کی سیٹ پر بھی قبضہ کیا اور شہر کی قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹیں بھی ہتھیا لیں۔ وزیراعلیٰ سندھ بتائیں کہ قابضین کو قبضہ گروپ نہ کہا جائے تو اور کیا کہیں؟ انہوں نے کہا کہ ملک میں افسر شاہی کا راج ہے، مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ جماعت اسلامی کراچی میں قبضہ گروپ کا قبضہ چھڑائے گی، 14 فروری کو بھرپور احتجاج ہوگا، بااختیار بلدیاتی نظام کی جدوجہد جاری رہے گی۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کی لہر سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں کو ایک دفعہ پھر باور کرایا کہ طاقت سے مسائل حل نہیں ہوں گے، عوام کو حقوق دینا ہوں گے۔ نوجوانوں کو روزگار اور تعلیم میسر نہیں ہوں گے تو یہ ملک دشمن عناصر کے ہتھے چڑھیں گے۔ بلوچستان کے عوام کو عزت دی جائے۔ نام نہاد امریکی جنگ میں شمولیت کے نتائج قوم 25 برس سے بھگت رہی ہے ، حکمران ٹرمپ کی چاپلوسی کے بجائے قوم کے وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں اور پالیسیاں تشکیل دیں۔ دنیا کا امن تباہ کرنے پر تْلے ہوئے ٹرمپ کو وزیراعظم شہباز شریف نے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرکے ملک و قوم کے وقار کا سودا کیا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 77 برس کے بعد بھی قیام پاکستان کے مقاصد حاصل نہیں ہوئے، خدا کی مرضی کے بغیر نظام خدا سے بغاوت ہے، جماعت اسلامی کی سیاست ذات یا مفادات کی اسیر نہیں ، جماعت اسلامی اقامت دین اور امت کے اتحاد کی جدوجہد کررہی ہے۔ ملک میں چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی نوجوانوں کو ساتھ کر ملک میں حقیقی تبدیلی لے کر آئے گی۔
لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن ملک میں
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔