4 روز کے دوران ایک ارب 22 کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
کائٹ فلانگ ایسوسی ایشن کے لیگل ایڈوائرز ایڈووکیٹ ملک فیضان احمد نے کہا ہےکہ لاہور میں چوتھے روز ایک ارب 22 کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت ہوئی جب کہ چوتھے روز پتنگوں کے ریٹ میں اضافےکے ساتھ دستیابی بھی رہی۔ملک فیضان احمد کے مطابق چوتھے روز مارکیٹس میں 10 لاکھ سے زائد گڈے پتنگیں فروخت ہوئیں جب کہ 20 ہزار سے زائد پنے فروخت ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ڈیڈھ تاوا گڈا 700روپے ، ایک تاوا 400 روپے اور پونا تاوا 300 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے، دو پیس کا پنا 12 سے 15 ہزار کا فروخت ہو رہا ہے۔ملک فیضان نے کہا کہ پہلے روز 16کروڑ روپے ، دوسرے روز 18کروڑ روپے ، تیسرے روز 20 کروڑ روپے جب کہ چوتھے روز 68 کروڑ کی خرید و فروخت ہوئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اندرون موچی گیٹ مارکیٹ، اسلامپورہ، ساندہ، سمن آباد، نوناریاں اور اچھرہ سمیت دیگر علاقوں میں پتنگوں ، گڈوں اور پنوں کی خرید و فروخت جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چوتھے روز
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔