4 روز کے دوران ایک ارب 22 کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
کائٹ فلانگ ایسوسی ایشن کے لیگل ایڈوائرز ایڈووکیٹ ملک فیضان احمد نے کہا ہےکہ لاہور میں چوتھے روز ایک ارب 22 کروڑ سے زائد کی ڈور گڈی فروخت ہوئی جب کہ چوتھے روز پتنگوں کے ریٹ میں اضافےکے ساتھ دستیابی بھی رہی۔ملک فیضان احمد کے مطابق چوتھے روز مارکیٹس میں 10 لاکھ سے زائد گڈے پتنگیں فروخت ہوئیں جب کہ 20 ہزار سے زائد پنے فروخت ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ڈیڈھ تاوا گڈا 700روپے ، ایک تاوا 400 روپے اور پونا تاوا 300 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے، دو پیس کا پنا 12 سے 15 ہزار کا فروخت ہو رہا ہے۔ملک فیضان نے کہا کہ پہلے روز 16کروڑ روپے ، دوسرے روز 18کروڑ روپے ، تیسرے روز 20 کروڑ روپے جب کہ چوتھے روز 68 کروڑ کی خرید و فروخت ہوئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ اندرون موچی گیٹ مارکیٹ، اسلامپورہ، ساندہ، سمن آباد، نوناریاں اور اچھرہ سمیت دیگر علاقوں میں پتنگوں ، گڈوں اور پنوں کی خرید و فروخت جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چوتھے روز
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔