وفاقی وزیر داخلہ سے چینی سفیر ملاقات، بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، پاکستان سے مکمل اظہارِ یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : چینی سفیر نے وزارت داخلہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔
چین کے سفیر جیانگ ژی ڈونگ نے وزارت داخلہ کا دورہ کیا، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا خیر مقدم کیا، اس موقع پر وزیر داخلہ اور چینی سفیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی۔
فلپائن میں خوفناک آتشزدگی، 1000 مکانات خاکستر ، ہزاروں افراد بے گھر
ملاقات میں چینی سفیر نے بلوچستان میں شہریوں اور سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور اظہارِ تعزیت کیا،انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، چین ہر طرح کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں چین مضبوطی سے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
بسنت: حکومتِ پنجاب کا ان ڈرائیو اور ینگو کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا
وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کے دوران کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی ایک منظم اور طے شدہ منصوبے کے تحت کی گئی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر رسپانس دیا۔
انہوں نے چینی سفیر کو بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر آپریشنز سے آگاہ کیا اور چینی شہریوں اور چینی منصوبوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ چینی شہریوں اور پراجیکٹس کی حفاظت انہیں بے حد عزیز ہے،محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاک چین دوستی کو دشمن کسی صورت نقصان نہیں پہنچا سکتا ، چینی شہریوں کو ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کرنا حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے،چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ تشکیل دیا جا رہا ہے۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا یومِ یکجہتی کشمیر پر اہم پیغام
انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کے خلاف مربوط آپریشنز کے لیے جدید چینی ٹیکنالوجی اور سازوسامان معاون ثابت ہوگا،وزیر داخلہ نے چینی سفیر کو اپنے حالیہ کامیاب دورۂ چین سے بھی آگاہ کیا۔
ملاقات میں انسدادِ دہشتگردی، داخلی سلامتی اور سیکیورٹی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا جب کہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سائبر کرائمز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا، وزیر داخلہ محسن نقوی اور چینی سفیر نے پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
فون نمبر بلاک کرنے پر لڑکی نے لڑکے کو قتل کردیا
چینی سفیر نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے کیے گئے اقدامات پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا جب کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی ہر موقع پر غیر متزلزل حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا۔
ملاقات میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، سپیشل سیکرٹری داخلہ اور چینی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :