کَیس لاہور میں مصنوعی ذہانت کے بچوں اور نوجوانوں پر اثرات پر اہم راؤنڈ ٹیبل مباحثہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
کَیس لاہور میں مصنوعی ذہانت کے بچوں اور نوجوانوں پر اثرات پر اہم راؤنڈ ٹیبل مباحثہ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 February, 2026 سب نیوز سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس)، لاہور نے “الگورتھمز کے ساتھ پرورش: مصنوعی ذہانت کس طرح بچپن اور نوجوانی کو ازسرِنو تشکیل دے رہی ہے” کے عنوان سے ایک راؤنڈ ٹیبل مباحثے کا انعقاد کیا۔ ایک خودمختار تھنک ٹینک کے طور پر کَیس لاہور ٹیکنالوجی، معاشرے اور پالیسی کے باہمی تعلق کے تناظر میں اہم اور ابھرتے ہوئے مسائل پر علمی اور فکری مکالمے کے انعقاد کا اہتمام کرتا ہے۔ اس تقریب میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ افتتاحی خطاب کَیس کی ریسرچ اسسٹنٹ، محترمہ فائزہ عابد نے کیا۔
پہلے سیشن میں یونیورسٹی آف لاہور کے ڈین آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈاکٹر ابرار حسین نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ الگورتھمک نظام کس طرح بچوں کی تعلیم، کھیل اور سماجی روابط کو متاثر اور تشکیل دے رہے ہیں۔ انہوں نے ایڈاپٹو کلاس رومز، اسمارٹ کھلونوں، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کھیلوں اور سماجی سیمولیشنز کا ذکر کیا جو کھیل اور تعلیم کو یکجا کرتے ہوئے اسکول اور گھر کے درمیان ایک مربوط کھیل سیکھنے کا ماحول تشکیل دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار حسین نے ڈیٹا کی رازداری، ذہنی نشوونما، بنیادی مہارتوں کے زوال، حد سے زیادہ انحصار اور نگرانی جیسے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کی نفسیاتی اور سماجی بہبود کے تحفظ کے لیے محفوظ اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔
دوسرے سیشن میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کی پروفیسر آف نفسیات، ڈاکٹر شازیہ حسن نے اس بات کا تجزیہ پیش کیا کہ الگورتھمک ماحول کس طرح انسانی ذہن، شناخت اور فرد کی خودمختاری کو نئی شکل دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت علمی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، تاہم یہ خود احتسابی، خود آگاہی اور تنقیدی فیصلے کی صلاحیت کو محدود بھی کر سکتی ہے۔ نوجوانوں کے تناظر میں انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار خودمختاری، جذباتی وابستگی اور تنقیدی سوچ کو کمزور کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر شازیہ حسن نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ایجنسی کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت کے نتائج کو تنقیدی انداز میں سمجھنا، انہیں اخلاقی، سماجی اور ثقافتی تناظر میں رکھنا، اور آزادانہ سوچ اور خود آگاہی کے لیے مناسب گنجائش فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
اختتامی کلمات میں ایئر مارشل (ر) عاصم سلیمان، صدر، کَیس لاہور نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب روزمرہ زندگی کا ایک مرکزی اور ناگزیر جزو بن چکی ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، کھیلوں اور سوشل میڈیا میں شامل مصنوعی ذہانت کے نظام نہایت باریک انداز میں انسانی رویّوں، توجہ، جذبات، سماجی روابط اور شناخت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ تخلیقی صلاحیت، ذاتی نوعیت کی تعلیم اور مسائل کے حل کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں خود انحصاری، لچک اور نجی زندگی کو درپیش خطرات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاندانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کو تحقیق، مؤثر پالیسی سازی اور انسانی مرکزیت پر مبنی تعاون کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کی رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ صحت مند نشوونما، تنقیدی سوچ اور ذمہ دارانہ فیصلہ سازی کو فروغ دیا جا سکے۔
راؤنڈ ٹیبل مباحثے کا اختتام ایک بھرپور اور متحرک سوال و جواب کے سیشن پر ہوا، جس میں نوجوانوں، تعلیم اور انسانی ترقی پر مصنوعی ذہانت کے گہرے اثرات کو اجاگر کیا گیا۔ شرکا نے کَیس لاہور کی جانب سے اس بروقت، سنجیدہ اور فکری طور پر بامعنی مکالمے کے انعقاد کو سراہا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربارسلونا قونصلیٹ میں عوامی خدمت کی نئی تاریخ رقم قونصل جنرل مراد وزیر علی کی مخلص قیادت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے امید کی کرن یومِ یکجہتی کشمیر، افواج پاکستان کا کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا: صدر و وزیراعظم پاکستان کا سلامتی کونسل سے کالعدم بی ایل اے پر پابندی لگانےکا مطالبہ اسلامک ملٹری کائونٹر ٹیررازم کولیشن کے تحت انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ رویوں کے حامل افراد کی اصلاح کا پروگرام شروع پاکستان اور تھائی لینڈ کا ورثہ مشترک،ثقافتی سفارتکاری ہمارے تعلقات کی روح ہے: تھائی لینڈ کے سفیر پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ تازہ پیش گوئی سامنے آ گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت کے راؤنڈ ٹیبل ک یس لاہور
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔