خیابان اتحاد پر نصب ڈیجیٹل اسکرینز ہیک ہونے کا واقعہ، غیر اخلاقی مواد چلایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے میں واقع خیابانِ اتحاد روڈ پر بدھ کے روز اس وقت تشویش پھیل گئی جب سڑک کنارے نصب ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز کو نامعلوم ہیکرز نے ہیک کرکے غیر اخلاقی مواد نشر کردیا۔
واقعہ چند لمحوں کے لیے پیش آیا مگر شہریوں کی بڑی تعداد نے اسے دیکھ لیا۔
ذرائع کے مطابق خیابانِ اتحاد عبدالستار ایونیو پر نصب اسکرینز پر اچانک نامناسب مناظر چلنے لگے، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئیں۔ واقعے کے بعد شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور متعلقہ حکام کو فوری طور پر آگاہ کیا گیا۔
اطلاع ملتے ہی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متنازع ڈیجیٹل اسکرینز کو بند کردیا۔ احتیاطی تدابیر کے تحت ڈی ایچ اے کی دیگر اہم شاہراہوں کے علاوہ شاہراہِ فیصل اور کارساز روڈ پر نصب متعدد ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز بھی عارضی طور پر بند کردی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور این سی سی آئی اے کے ساتھ سائبر کرائم یونٹ تکنیکی شواہد اکٹھے کر رہا ہے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق ہیکنگ میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔