کشمیر میں کھلے عام دہشت گردی پر دنیا خاموش کیوں ہے؟ مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
حریت رہنما کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کوئی تنازعہ نہیں، دنیا کا خطرناک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے۔ اسلام ٹائمز۔حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ویڈیو پیغام میں کشمیر کی موجودہ صورتحال اور حریت قیادت کو درپیش خطرات پر بات کی ہے۔ مشعال ملک نے کہا کہ آج یومِ یکجہتی کشمیر ہے اور کشمیر صرف ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ دنیا کا ایک خطرناک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حریت رہنما محمد یاسین ملک اس وقت ڈیتھ سیل میں قید ہیں۔ مودی سرکار انہیں پھانسی پر چڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مشعال ملک کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کسی ایک خاندان تک محدود نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کو خاموش کرانے کی کوشش ہے، جہاں امن اور آزادی کی آواز کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ مشعال ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا ظلم کے سائے میں امن ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کو ڈیتھ سیل میں رکھنا پوری کشمیری قوم کو سزا دینے کے مترادف ہے۔ مودی سرکار کشمیری قیادت کو پھانسی دے کر آواز دبانا چاہتی ہے۔ ویڈیو پیغام میں مشعال حسین ملک نے کہا کہ امن اور آزادی کا مطالبہ کرنا کشمیریوں کے لیے جرم بن چکا ہے۔ دنیا خاموش ہے اور کشمیر میں دہشت گردی کھلے عام ہو رہی ہے۔ ہر آنسو پر پابندی اور ہر دھڑکن پر خوف مسلط ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسا انصاف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مشعال ملک نے کہا کہ ملک نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔